بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

نوجوان صحافی کے آخری لمحات اور آخری گفتگو، دوست نے تفصیل بیان کردی

datetime 3  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)نوجوان صحافی ومعروف ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرراجہ مطلوب کے قریبی دوست نے ان کی آخری گفتگو اور حادثے سے متعلق تفصیلات شیئر کردیں۔ راجہ مطلوب پاکستان کے ایک معروف ڈیجیٹل چینل سے وابستہ تھے اور وہ اسلام آباد سے اپنی ویڈیو رپورٹس کی وجہ سے ایک الگ پہچان رکھتے تھے۔ تاہم، دسمبر میں وہ اچانک ایک کار حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے قریبی دوست عدنان فیصل کی سالگرہ میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔ عدنان فیصل بھی ایک معروف ڈیجیٹل کریئیٹر ہیں اور’ ایف ایچ ایم پاکستان’ کے پوڈ کاسٹ کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ اسلام آباد کے سیکٹر جیـ11 میں راجہ مطلوب کے حادثے کی ویڈیو سوشل میڈیا پرتیزی سے وائرل ہوئی جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ دوست کی سالگرہ پر وقت پر پہنچنے کی کوشش میں تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہے تھے۔

عدنان فیصل نے ایک ویڈیو میں اپنی دوست سے متعلق کھل کر گفتگو کی اور اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے جب راجہ مطلوب ان کی سالگرہ منانے آتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔عدنان فیصل نے کہا کہ یہ سال میرے لیے بہت مشکل ہوگا کیونکہ میں نے اپنے سب سے پیارے دوستوں میں سے ایک، راجہ مطلوب کو کھو دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے نصیب میں کامیابیاں تو ہوں گی تاہم میرے ساتھ راجہ مطلوب نہیں ہوگا، آپ نے سوشل میڈیا پر ایک حادثے کی وائرل ویڈیو دیکھی ہوگی، وہ میرا دوست راجہ مطلوب تھا جو میری سالگرہ پر آ رہا تھا۔فیصل عدنان نے بتایا کہ میں نے اسے فون کیا اور کہا، تم کہاں ہو؟ میری اسلام آباد میں سالگرہ ہے اور تمہیں یہاں ہونا چاہیے، جس پر اس نے مجھے جواب دیا کہ میں کوئٹہ میں ہوں اور شاید شرکت نہ ہوسکے۔

انہوںنے کہاکہ مگر وہ میرا ایسا دوست تھا جو ہر حال میں میری سالگرہ پر پہنچنا چاہتا تھا جس کیلئے اس نے پرائیویٹ جیٹ لیا، لاہور میں لینڈ کیا اور پھر موٹروے کے ذریعے بہت تیز رفتاری سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا۔عدنان فیصل نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ مسلسل فون کرتا رہا اور کہتا رہا کہ وہ جلد پہنچ جائے گا، رات 10 بج کر 10 منٹ پر اس نے فون کرتے ہوئے کہا کہ میں اسلام آباد پہنچ گیا ہوں اور اسی کال کے دوران مجھے ایک زوردار ٹکر کی آواز سنائی دی۔انہوں نے کہا کہ اسی لمحے ایک شخص نے اس کا فون اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ حادثے کی جگہ پر آ جائیں، جس دوست کو آپ نے فون کیا تھا وہ فوت ہوچکا ہے اور جب میں وہاں پہنچا تو وہ خون میں لت پت تھا۔عدنان فیصل نے کہا کہ میں نے اسے اپنی بانہوں میں لیا، اس وقت وہ میرے ہاتھوں میں آخری سانسیں لے رہا تھا، میں نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا وہ زندہ ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کا غم کبھی نہیں جاتا، راجہ چلا گیا ہے اور مجھے اس غم کے ساتھ ہی جینا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…