گوجرخان(این این آئی)تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان کے زنانہ وارڈ میں ایک پولیس اہلکار کی جانب سے خواتین کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بنانے کا شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے،جس پر شہریوں اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ملزم کی شناخت عقیل عباس کے نام سے ہوئی ہے،جو پنجاب پولیس کے ٹریننگ ونگ ہیڈکوارٹر لاہور میں تعینات ہے۔اطلاعات کے مطابق مذکورہ اہلکار زنانہ واش روم،جس کی چھت موجود نہیں،میں دیوار کے اوپر سے موبائل فون کے ذریعے خواتین کی خفیہ ویڈیوز اور تصاویر بناتا رہا۔
شکایت موصول ہونے پر شہریوں نے کارروائی کرتے ہوئے اسے موقع پر پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ذرائع کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے 300 سے زائد نازیبا ویڈیوز اور تصاویر برآمد ہوئی ہیں،جن میں خواتین کی نجی زندگی اور عزت نفس کو پامال کیا گیا ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ مذکورہ شخص کے خلاف پہلے بھی تھانہ صادق آباد میں مقدمہ درج ہو چکا ہے،لیکن مبینہ غفلت کے باعث وہ دوبارہ ایسی قبیح حرکت کرنے میں کامیاب رہا۔گوجرخان پولیس نے مقدمہ تو درج کر لیا ہے،تاہم ایف آئی آر میں ملزم کی پولیس حیثیت کو مخفی رکھا گیا ہے،جو قانون کی بالادستی اور شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد سماجی، سیاسی،دینی و عوامی حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہیکہ ملزم کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کیا جائیانسدادِ ہراسگی و سائبر کرائم قوانین کے تحت عبرت ناک سزا دی جائیواقعہ کی اعلی سطح پر شفاف تحقیقات کی جائیں،تمام سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک فرد کا جرم نہیں،بلکہ معاشرے اور نظام انصاف کے لیے ایک چیلنج ہے۔ایسے عناصر کی سرکوبی میں عوامی نمائندوں،وکلا،سول سوسائٹی، اساتذہ اور تمام مکاتب فکر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ایسے درندہ صفت عناصر کو اگر آج نشان عبرت نہ بنایا گیا تو کل یہ ناسور پورے معاشرے کو کھا جائیں گے۔کسی بھی ماں،بہن یا بیٹی کی عزت پر حملہ کرنے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں۔اخلاقی و سماجی اقدار کا تقاضا ہے کہ ایسے جرائم پر نہ صرف فوری قانونی کارروائی کی جائے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ان کی بیخ کنی کی جائے۔وردی کے تقدس کو پامال کرنے والے کسی رعایت کے حقدار نہیں۔