پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ایف بی آر نے بڑی ٹیکسٹائل مل کی 1.9ارب روپے کی ٹیکس چوری پکڑلی

datetime 16  جولائی  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)ایف بی آر نے بڑی ٹیکسٹائل کمپنی کی جانب سے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن سکیم کے ذریعے کی گئی ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری پکڑلی۔دستاویز کے مطابق ایف بی آر کے ماتحت ادارے ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کسٹمز (نارتھ)اسلام آباد نے ایک بڑے ٹیکس فراڈ کا سراغ لگایا ہے ،جس میں پشاور کی کمپنی ”پریمیم ٹیکسٹائل بلینکٹ انڈسٹری”کی جانب سے ایکسپورٹ فیسلیٹیشن سکیم (ای ایف ایس)کا ناجائز فائدہ اٹھا کر تقریباً 1.9ارب روپے کے محصولات اور ٹیکسز کی چوری کی گئی ہے۔

کسٹمز حکام نے بتایاکہ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے مطابق مذکورہ کاروباری ادارے نے ای ایف ایس سکیم کے تحت مختلف اقسام کے ٹیکسٹائل فیبرک کی ڈیوٹی اور ٹیکس فری درآمد کی ،جس کا مقصد افغانستان برآمدی مقاصد کیلئے تیار ملبوسات کی تیاری تھا ،تاہم اس کے برعکس مذکورہ کمپنی نے نہ تو کوئی پیداواری سرگرمی کی اور نہ ہی برآمدات کیں بلکہ درآمد شدہ مال کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کر دیا۔ڈائریکٹوریٹ کی ٹیم جب فیکٹری کا اسٹاک چیک کرنے پہنچی تو معلوم ہوا کہ درآمد کردہ 2,826.1میٹرک ٹن مال میں سے کچھ بھی اسٹاک میں موجود نہیں تھا ۔پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کسٹمز اسلام آباد نے اس فراڈ پر کارروائی کرتے ہوئے 1.9ارب روپے کے محصولات کی وصولی کیلئے باقاعدہ کنٹروینشن کیس تیار کیاجس پر کلیکٹر کسٹمز(ایڈجیوڈیکیشن)اسلام آباد نے ایف بی آر کے حق میں فیصلہ سنایا۔

مذکورہ کمپنی نے اس فیصلے کے خلاف کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل اسلام آباد میں اپیل دائر کی اور کسٹمزایپلٹ ٹریبونل نے بھی نہ صرف ابتدائی حکم نامہ برقرار رکھا بلکہ کمپنی کو 1.9ارب روپے کے واجب الادا محصولات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ 3.9ارب روپے سے زائد سر چارج بھی ادا کرنے کا حکم دیا۔ایف بی آر حکام نے کہاکہ ٹیکس فراڈ کا بڑا کیس پکڑنا محکمہ کسٹمز کے پوسٹ کلیئرنس آڈٹ ونگ کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور نگرانی کے نظام کی مضبوطی کا ثبوت ہے ،جس نے نہ صرف قومی خزانے کو بڑا نقصان ہونے سے بچایا بلکہ برآمدی سہولتی اسکیموں کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کیلئے ایک اہم مثال بھی قائم کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…