منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے دہری شہریت والوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

datetime 24  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان سیٹیزن شپ ایکٹ (ترمیمی) 2024 کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد بیرون ملک شہریت حاصل کرنے کے باعث پاکستانی شہریت سے محروم ہونے والے شہریوں کو دوبارہ پاکستانی شناخت دینا ہے۔

کمیٹی اجلاس کے دوران وزارت قانون کے نمائندے نے وضاحت کی کہ ماضی میں کچھ ممالک میں مقامی شہریت حاصل کرنے کے لیے پاکستانیوں کو اپنی اصل شہریت ترک کرنا پڑتی تھی۔ اب حکومت ان قوانین میں ترمیم کے ذریعے ان افراد کو دوبارہ شہریت فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ پاکستان سے اپنا رشتہ بحال رکھ سکیں۔

ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس، مصطفیٰ جمال قاضی نے اجلاس میں بتایا کہ پہلے پاکستان کا 22 ممالک کے ساتھ دہری شہریت کا کوئی معاہدہ موجود نہیں تھا، لیکن اب ان ممالک کے ساتھ باقاعدہ معاہدے ہو چکے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستانی شہری بغیر اپنی شہریت چھوڑے غیر ملکی شہریت بھی حاصل کر سکیں گے۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے بل کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ جن پاکستانیوں نے مجبوری میں شہریت چھوڑی، انہیں دوبارہ پاکستانی شہریت کا حق دیا جانا ضروری ہے۔

علاوہ ازیں اجلاس میں اسلحہ لائسنس کے اجرا کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے بریفنگ میں بتایا کہ ملک کے تمام صوبے اسلحہ لائسنس جاری کر رہے ہیں، تاہم اسلام آباد میں سابقہ دور میں بڑی تعداد میں لائسنس جاری کیے گئے، جن میں کئی بے ضابطگیاں بھی سامنے آئیں۔

اس موقع پر طلال چوہدری نے کہا کہ اب اراکین قومی اسمبلی کو ایک لائسنس وزیر اعظم کی منظوری سے فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ممنوعہ بور کے اسلحے کے لائسنس محدود پیمانے پر جاری کیے جائیں گے اور صرف مخصوص افراد کو ہی ان کی سفارش کا اختیار دیا جائے گا تاکہ لائسنس کے اجرا کا عمل شفاف بنایا جا سکے۔

یہ اقدامات حکومت کی جانب سے شہریت اور اسلحہ لائسنس کے نظام میں شفافیت اور بہتری کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…