جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مثبت اقدام کے ذریعے کینسر کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے،ریسرچ

datetime 27  دسمبر‬‮  2014 |

لندن۔۔۔۔برطانیہ میں کینسر کے مریضوں پر ہونے والی تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق کینسر کے دس میں سے چار مریض صحت مندانہ اندازِ زندگی اپنا کر اس مرض سے بچ سکتے ہیں۔خیراتی ادارے یو کے کینسر ریسرچ کے مطابق سگریٹ نوشی کینسر کے لاحق ہونے میں ایک ایسا خطرناک عنصر ہے جس سے پرہیز کینسر سے بچاؤ میں مددگار ہو سکتا ہے۔البتہ یو کے کینسر ریسرچ کیماہر شماریات ڈاکٹر میکس پارکن نے واضح کیا ہے کہ مکمل صحت مندانہ اندازِ رندگی بھی کینسر سے بچاؤ کی ضمانت نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ مثبت اقدام کے ذریعے کینسر کے خطرے کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ریسرچ کے مطابق تمباکو نوشی سے چھٹکارے، شراب نوشی میں کمی اور تواتر کے ساتھ ورزش کو اپنا کر کینسر کے خطرے کو مزید کم کیا جا سکتا ہے۔یو کے کینسر ریسرچ نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ سال نو کے عہدوں میں صحت پر توجہ کو بھی شامل کر لیں۔یو کے کینسر ریسرچ کے مطابق پانچ سالہ تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ کینسر کے تین لاکھ مریضوں کا مرض سگریٹ نوشی سے وابستہ تھا۔ ایک لاکھ 45 ہزار مریضوں کا مرض غیر صحت مندانہ انداز زندگی اور پکے پکائے منجمد کھانوں سے جڑا ہوا تھا۔مزید 88 ہزار کیسوں کا تعلق موٹاپے سیتھا جبکہ 62 ہزار کثرت شراب نوشی کو وجہ سے کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئے۔ براہ راست سورج کی روشنی اور جسمانی سستی بھی ایسے عناصر ہیں جو کینسر کے مرض کا سبب بن سکتے ہیں۔یو کے کیسنر ریسرچ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر میکس پارکن نے ریسرچ کے بارے میں کہا کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہ گیا ہے کہ مخصوص طرزِ زندگی کینسر کے خطرے کے عناصر میں اہم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے دوسرے حصوں میں کینسر پر ہونے والی ریسرچ میں بھی یہی عناصر سامنے آئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…