اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے تنازعات کے متبادل حل کیلئے کمیٹی اور ٹاسک فورس از سر نو تشکیل دے دی

datetime 6  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی نے تنازعات کے متبادل حل کے لیے کمیٹی اور ٹاسک فورس از سر نو تشکیل دے دی۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن کے 22 جولائی کا نوٹیفکیشن منظر عام پر آگیا جس کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ ٹاسک فورس کے رکن نہیں رہے اور جسٹس یحیی خان آفریدی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔کمیٹی ممبران میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید بھی شامل ہوں گے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ کمیٹی کی معاونت کے لیے تنازعات کے متبادل حل کے لیے نئی ٹاسک فورس بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ٹاسک فورس میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ہاشم کاکڑ، لاہور سے جسٹس جواد حسن، کراچی سے جسٹس یوسف علی سید اور پشاور سے جسٹس عتیق شاہ اور اسلام آباد سے جسٹس میاں گل حسن شامل ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسڑکٹ اینڈ سیشن ججز صدف کھوکھر، عظمی فرناز، شبانہ محسود، شمس الدین سپرا ٹاسک اور سول جج صنم بخاری بھی ممبر ہوں گی۔اس کے علاوہ اٹارنی جنرل اور وزارت قانون کے نمائندے بھی ٹاسک فورس میں شامل ہوں گے جبکہ تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز، ایڈوکیٹ مخدوم علی خان، فیصل نقوی اور سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن بھی ٹاسک فورس کے ممبرز ہوں گے۔

نوٹیفیکیشن سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔اسی طرح سپریم کورٹ آف پاکستان نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت قائم ججز کمیٹی کے اجلاس کے منٹس جاری کر دیے۔عدالتی دستاویز میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے ارشد شریف کیس کے حوالے سے کمیٹی کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیا اور کمیٹی کا موقف تھا کہ آئینی تشریح کے علاوہ لارجر بینچ تشکیل نہیں دیا جائے گا۔اس حوالے سے دستاویز میں کہا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کے موقف سے اتفاق نہیں کیا اور دونوں ججز کا موقف تھا کہ مقدمہ پہلے پانچ رکنی بینچ سن رہا تھا۔دستاویز میں کہا گیا کہ دونوں ججز کا موقف تھا کہ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر سابقہ بینچ کا حصہ تھے لہذا ان کے ساتھ سنیارٹی کے مطابق دیگر ججز شامل کیے جائیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے دیگر ججز کی عدم دستیابی پر شریعت بینچ کی سربراہی کی پیشکش کی جس پر کمیٹی نے متفقہ طور پر چیف جسٹس کی سربراہی میں شریعت بینچ تشکیل دیا۔بیان میں کہا گیا کہ ایڈہاک ججز نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ ان کے سامنے 30 جولائی کو صرف دس کیسز مقرر تھے اور کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بینچ اور رجسٹرار نشاندہی شدہ 1100 فوجداری مقدمات میں سے خود کیسز مقرر کریں۔عدالتی دستاویز کے مطابق کمیٹی نے پانچ اگست سے چھ ستمبر تک بینچز کے نظرثانی روسٹر کی منظوری دی جبکہ ججز کمیٹی نے تمام اجلاسوں کے فیصلے ویب سائٹ پر جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…