جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے تنازعات کے متبادل حل کیلئے کمیٹی اور ٹاسک فورس از سر نو تشکیل دے دی

datetime 6  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی نے تنازعات کے متبادل حل کے لیے کمیٹی اور ٹاسک فورس از سر نو تشکیل دے دی۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن کے 22 جولائی کا نوٹیفکیشن منظر عام پر آگیا جس کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ ٹاسک فورس کے رکن نہیں رہے اور جسٹس یحیی خان آفریدی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔کمیٹی ممبران میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید بھی شامل ہوں گے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ کمیٹی کی معاونت کے لیے تنازعات کے متبادل حل کے لیے نئی ٹاسک فورس بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ٹاسک فورس میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ہاشم کاکڑ، لاہور سے جسٹس جواد حسن، کراچی سے جسٹس یوسف علی سید اور پشاور سے جسٹس عتیق شاہ اور اسلام آباد سے جسٹس میاں گل حسن شامل ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈسڑکٹ اینڈ سیشن ججز صدف کھوکھر، عظمی فرناز، شبانہ محسود، شمس الدین سپرا ٹاسک اور سول جج صنم بخاری بھی ممبر ہوں گی۔اس کے علاوہ اٹارنی جنرل اور وزارت قانون کے نمائندے بھی ٹاسک فورس میں شامل ہوں گے جبکہ تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز، ایڈوکیٹ مخدوم علی خان، فیصل نقوی اور سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن بھی ٹاسک فورس کے ممبرز ہوں گے۔

نوٹیفیکیشن سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔اسی طرح سپریم کورٹ آف پاکستان نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت قائم ججز کمیٹی کے اجلاس کے منٹس جاری کر دیے۔عدالتی دستاویز میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے ارشد شریف کیس کے حوالے سے کمیٹی کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیا اور کمیٹی کا موقف تھا کہ آئینی تشریح کے علاوہ لارجر بینچ تشکیل نہیں دیا جائے گا۔اس حوالے سے دستاویز میں کہا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس کے موقف سے اتفاق نہیں کیا اور دونوں ججز کا موقف تھا کہ مقدمہ پہلے پانچ رکنی بینچ سن رہا تھا۔دستاویز میں کہا گیا کہ دونوں ججز کا موقف تھا کہ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر سابقہ بینچ کا حصہ تھے لہذا ان کے ساتھ سنیارٹی کے مطابق دیگر ججز شامل کیے جائیں۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے دیگر ججز کی عدم دستیابی پر شریعت بینچ کی سربراہی کی پیشکش کی جس پر کمیٹی نے متفقہ طور پر چیف جسٹس کی سربراہی میں شریعت بینچ تشکیل دیا۔بیان میں کہا گیا کہ ایڈہاک ججز نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ ان کے سامنے 30 جولائی کو صرف دس کیسز مقرر تھے اور کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بینچ اور رجسٹرار نشاندہی شدہ 1100 فوجداری مقدمات میں سے خود کیسز مقرر کریں۔عدالتی دستاویز کے مطابق کمیٹی نے پانچ اگست سے چھ ستمبر تک بینچز کے نظرثانی روسٹر کی منظوری دی جبکہ ججز کمیٹی نے تمام اجلاسوں کے فیصلے ویب سائٹ پر جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…