بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

خود کو سیاسی مقاصد کیلیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دوں گا، ملک ریاض

datetime 27  مئی‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی)بحریہ ٹائون کے سربراہ ملک ریاض نے کہا ہے کہ کبھی بھی کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ مجھے سیاسی مقاصد کے لیے پیادہ کے طور پر استعمال کرے۔ملک ریاض نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ میری ساری زندگی، اللہ تعالی نے ہمیشہ مجھے اپنے اصول پر قائم رہنے کی رہنمائی کی ہے کہ میں کسی بھی معاملے میں سیاسی فریق نا بنوں ۔انہوں نے کہا کہ اب ایک سال سے زیادہ عرصے سے، مجھ پر سمجھوتہ کرنے کے لیے بہت دبائو ہے، لیکن میں کبھی بھی کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ مجھے سیاسی مقاصد کے لیے پیادہ کے طور پر استعمال کرے۔

ملک ریاض نے کہاکہ پاکستان میں جدید ترین پراجیکٹس متعارف کروانے پر مجھے اور میرے کاروبار کو ہمیشہ نشانہ بنایا گیا ہے ۔ 1996 سے آج تک ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی سزا بھگت رہا ہوں۔انہوں نے زور دیا کہ میں نے ماضی میں اللہ تعالی کی مدد سے اس طرح کے دبا کا پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ سامنا کیا ہے۔ آج بھی، ذاتی حیثیت میں، میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں، over my dead body ۔ملک ریاض نے مزید کہا کہ اپنی بیمار حالت اور پریشانی کے باوجود، میں اللہ کی مدد سے اس مصیبت کا سامنا کرنے کے لیے ثابت قدم ہوں، روزانہ مالیاتی کاروباری نقصان برداشت کر رہا ہوں اور پوری طرح دیوار کے ساتھ دھکیل دیا جا رہا ہوں، لیکن کسی دبا کے ہتھکنڈوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی اس مشکل دور میں عزت کے ساتھ میری رہنمائی اور مدد کرے گا اور مجھے سرخرو کرے گا ۔ انشا اللہ.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…