جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

گھنٹے تک تیرتا رہا، ساتھیوں کو نہ بچا سکا،کشتی حادثے میں بچ جانیوالے پاکستانی کی روداد

datetime 26  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)یونان کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک پاکستانی حسیب الرحمان نے کہا ہے کہ ایک گھنٹے تک سمندر میں تیرتا رہا لیکن اپنے ساتھیوں کو ڈوبنے سے نہ بچا سکا۔آزاد کشمیر کے حسیب الرحمان نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ کشتی کا انجن خراب ہوا تو ایک بحری جہاز نے آکر مسافروں کی مدد کی لیکن اگر وہ ریسکیو کرتے تو بہتر ہوتا، انہوں نے ہمیں پانی اور بسکٹ دیے اور چلے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ لوگوں نے مدد کے لیے بھی پکارا تاہم انہوں نے نہ سنا، کشتی ڈوبنے کے بعد دوستوں کو آوازیں دیں لیکن اندھیرے میں کوئی جواب نہیں آیا۔حسیب الرحمان نے کہاکہ ایک بحری جہاز ریسکیو کرنے کے لیے آیا تھا، وہ بھی ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر دور چلا گیا۔یاد رہے کہ غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کے خواہشمند تارکین وطن کی کشتی 14 جون کو یونان کے ساحل کے قریب حادثے کا شکار ہو کر ڈوب گئی تھی۔

ابتدائی طور پر کشتی ڈوبنے سے 78 افراد ہلاک ہوئے تھے بعد ازاں 4 مزید لاشیں ملیں تھیں جس کے بعد اموات کی تعداد 82 ہوگئی اور104 کو بچالیاگیاتھا جن میں سے 12 کا تعلق پاکستان سے ہے۔کشتی میں پاکستانی، مصری، شامی اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 750 تارکین وطن سوار تھے۔وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کشتی میں سوار پاکستانیوں کی اب تک کی تعداد 350 ہے جب کہ 281 فیملیز نے رابطہ کیا ہے کہ ان کے بچے اس حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…