جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کے حج کارڈ پراجیکٹ کا آغاز

datetime 25  جون‬‮  2023 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے حج کارڈ پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے۔ یہ پراجیکٹ اس سال 1444ھ کے حج سیزن کے دوران پیش کیے جانے والے مختلف ڈیجیٹل پیکجز کا حصہ ہے۔

اس منصوبے کا مقصد عازمین کے مقدس سفر میں ان کی عبادات کو آسان بنانے میں ان کی مدد کرنا ہے۔حج کارڈ کا مقصد حاجیوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کو بہتر بنانا ہے، اس کے ذریعے گمشدہ افراد کی رہ نمائی میں سہولت فراہم کرنا اور گروپ کے رہ نما کے ساتھ رابطے میں مدد کرنا ہے۔وزارت نے کہا کہ یہ کارڈ دو کاپیوں پر مشتمل ہے۔ پہلی ڈیجیٹل جوحجاج کو نسک ایپلی کیشن میں نظر آتی ہے۔اس میں اس کا تفصیلی ڈیٹا ہوتا ہے، جیسے کہ اس کی رہائش کی جگہ، اس کا صحت کا ریکارڈ، اس کا داخلہ شیڈول،اور دیگر خدمات شامل ہیں۔ دوسری کاپی ہر حاجی کو پرنٹ شدہ شکل میں ملتی ہے۔ اس پر QR رسپانس کوڈ کے علاوہ اس کا ڈیٹا، شناختی نمبر، قومیت اور حج کمپنی کا پتہ بھی درج ہوتا ہے۔ حج کارکنان بھی اپنی درخواست کے ذریعے عازمین کے پورے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔یہ کارڈ کئی ڈیجیٹل خدمات بھی فراہم کرتا ہے، جن میں سب سے نمایاں حجاج کا کارڈ، پیکیج ڈیٹا، صحت کا ڈیٹا، شکایت درج کرنا، خدمات کا جائزہ لینا،حجاج کا نقشہ اور اہم ترین سائٹس کے نقشے شامل ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…