جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

صحت کارڈ کے تحت 63فیصد مریضوں نے نجی،37 فیصد نے سرکاری اسپتالوں سے علاج کروایا

datetime 5  جون‬‮  2023 |

پشاور(این این آئی)خیبر پختونخوا صحت کارڈ پلس منصوبے کے سروے کے حوالے سے پشاور کے مقامی ہوٹل میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا جس میں محکمہ صحت کے افسران سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔اس موقع پر آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے جاری سروے رپورٹ کے مطابق صحت کارڈ کے تحت 63فیصد مریضوں نے نجی،37 فیصد نے سرکاری اسپتالوں سے علاج کروایا۔

65 جبکہ فیصد مریضوں نے ضلعی،35 فیصد نے بڑے اسپتالوں سے علاج کرایا، اسی طرح 63 فیصد مریض مقامی اسپتال میں علاج کو ترجیح دیتے ہیں،تیس فیصد دیگر اضلاع، 6.2 فیصد لوگوں نے دیگر صوبوں کے اسپتالوں سے علاج کرایا۔ سروے رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ 10 فیصد شہری صحت کارڈ کی سہولت سے تاحال محروم ہیں،علاج سے محروم 44 فیصد شہریوں کو ڈومیسائل یا شہریت کے مسائل درپیش ہے، سروے میں بتایا گیا کہ 84 فیصد شہریوں نے علاج میں او پی ڈی شامل کرنے کی تجویز دی یے،سروے رپورٹ میں اخراجات کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک مریض کے علاج پر اوسطاً 31ہزار 395 روپے خرچہ آتا ہے،اخراجات نجی اسپتالوں کے مقابلے میں20سے 40فیصد مہنگے ہیں، سروے میں سفارشات پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صحت کارڈ پلس پالیسی بورڈ میں شہریوں کو شامل کیا جائے اورتکنیکی خامیوں کو دور کرکے دورافتادہ علاقوں میں اسپتالوں کی استعداد کار بہتر بنائی جائے بعد ازاں نگران وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے صحت ریاض انور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مالی مسائل مسائل کے باوجودصحت کار ڈ بند نہیں ہوگا،انھوں نے کہا کہ لیٹرز اتے ہیں، تو پیمنٹ کرتے ہیں، انشورنس کمپنی کو کہا کہ ائندہ لیٹرز نہ بھیجا کریں، اس سے ٹرسٹ خراب ہوتا ہے، ریاض انور نے مزید کہا کہ سسٹم میں خرابیوں کو دور کر رہے ہیں جبکہ صحت کار ڈ کے حوالے سے انکوائری جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…