جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

امریکا میں شہد کی مکھیوں کا بزرگ شہری پرحملہ،تین گھنٹے ڈنک مارتی رہیں

datetime 4  جون‬‮  2023 |

واشنگٹن(این این آئی )شہد کی مکھیوں کا ایک غول ایک امریکی بزرگ شخص پر حملہ آور ہو اور مسلسل تین گھنٹے اسے کاٹتا رہا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تین گھنٹے شہد کی مکھیوں کے ڈنک سہنے والا شخص اس وقت ہسپتال میں ہے۔ شہد کی ان مکھیوں نے معمر امریکی کے جسم میں 200 بار ڈنک مارا۔

81 سالہ امریکی شخص کارل اموس کو کولہے میں فریکچر ہونے کے ساتھ ساتھ پورے جسم میں 200 ڈنک بھی آئے۔شہد کی مکھیوں کے جھنڈ نے جسے قاتل مکھی کہا جاتا ہے، نے اوکلاہوما میں کارل اموس پر حملہ کیا۔زخمی شخص نے بتایا کہ شہد کی مکھیوں نے اسے ہر جگہ ڈنک مارا۔ وہ میرے بالوں میں گھس گئیں ، میرے کانوں اور ناک میں داخل ہوئیں اور میں نے اس وقت اپنا منہ بند رکھنے کا عزم کیا تاکہ اس میں گھس نہ جائے۔اس نے مزید کہا کہ اس نے کچھ شہد کی مکھیوں کو مارنے کی کوشش کی۔ انہیں بھگانے کے لیے ہاتھوں کا استعمال کیا مگر یہ کوشش ناکام رہی۔اس نے شہد کی مکھیوں کے غول سے بچنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ لڑکھڑا کر زمین پر گر گیا جس کی وجہ سے فریکچر ہو گیا۔ وہ اٹھ نہ سکیں جس کے باعث شہد کی مکھیاں 3 گھنٹے تک اسے ڈنک مارتی رہیں۔یہ خوفناک ڈرانا خواب اور وہ المیہ تھا۔ تین گھنٹے بعد کسی شخص نے اموس کو زمین پر پڑے دیکھا۔ اس نے فوری طو پر ایمبولینس کو کال کی اور ہسپتال پہنچایا گیا۔ اس وقت وہ بے ہو چکا تھا۔ ہوش میں آنے پر آموس نے مدد کرنیوالے شخص کا شکریہ ادا کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے مدد کرنے والے کا شکر گذار ہونا چاہیے۔ اس نے میری زندگی بچائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…