بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

تعلیم کے شعبے میں متعین کردہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے،بلیغ الرحمان

datetime 19  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)تعلیم و تربیت کے وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے اعتراف کیا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں متعین کردہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے تاہم حکومت نظریہ 2025ءکے تحت ملک میں خواندگی کی شرح 90 فیصد تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے اور اس ضمن میں کئی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ایک سیمینار سے خطاب میں بلیغ الرحمن نے کہا کہ ہر بچے کو تعلیم دینا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے نہ صرف اسکولوں میں بچوں کے داخلے کو بڑھانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں بلکہ تعلیم کے شعبے کے لیے سالانہ بجٹ میں بھی بتدریج اضافہ کیا جا رہا ہے۔اس وقت ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد سے بھی کم تعلیم کے لیے مختص کیا جارہا ہے اور موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ تین سالوں میں اسے بتدریج چار فیصد تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی بھی بہت اہم ہے جب کہ تعلیم بالغاں پر توجہ دینے کی بھی خاص ضرورت ہے کیونکہ بہت سے لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رکھ پاتے۔پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں کی ایک قابل ذکر تعداد موجود ہے لیکن یہاں حصول علم نسبتاً مہنگا ہونے کی وجہ سے عام آدمی کو اپنے بچوں کو سرکاری درسگاہوں میں بھی بھیجنا پڑتا ہے جہاں کے معیار تعلیم پر بھی ایک عرصے سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔رواں ماہ ہی ایک اور قضیہ اس وقت سامنے آیا جب ملک میں نجی اسکولوں نے ماہانہ فیسوں میں 20 فیصد سے 30 فیصد تک اضافہ کردیا جس پر اپنے بچوں کو اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھانے کی خواہش رکھنے والے والدین اس قدر پریشان ہوئے کہ انھوں نے اس کے خلاف احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔کئی روز تک سڑکوں پر مظاہروں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نجی تعلیمی اداروں کی اس من مانی کے خلاف چلنے والی مہم کے بعد حکومت نے اس طرف توجہ دی اور پرائیویٹ اسکولوں کو اس اضافے کو واپس لینے کا کہتے ہوئے آئندہ کے لیے ایک لائحہ عمل ترتیب دینے کا کہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…