امریکہ کا ملا عمر کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا اعلان، مگر کیوں؟ پڑھنے کیلئے کلک کریں
واشنگٹن۔۔۔۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں طالبان کے امیر ملا عمر کے خلاف اس وقت تک کارروائی نہیں کرے گا جب تک وہ براہ راست خطرہ ثابت نہیں ہوجاتے۔واشنگٹن میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان ایڈمرل جان کیربے کا کہنا تھا کہ طالبان کا رہنما ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکا اس کے خلاف آپریشن شروع کردے، جو طالبان ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے صرف ان ہی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں گزشتہ 13 برس سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ آئندہ 2 ہفتوں میں اختتام پذیر ہو جائے گی، جنوری 2014 کے بعد ملا عمر یا کسی بھی طالبان لیڈر کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ امریکا صرف ان طالبان کے خلاف کارروائی کرے گا جو ہمارے لئے براہ راست خطرہ ہیں۔واضح رہے کہ امریکا نے 2001 کے حملوں کے بعد اسامہ بن لادن کی مدد کے الزام میں طالبان کے سربراہ ملا عمر کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر کے ان کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی تھی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(آخری حصہ)
-
عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتو ں میں اضافہ
-
سونے کی قیمت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ
-
قاسم خان نے عمران خان کا پیغام شیئر کردیا
-
ایران نے جنگ روکنے کیلئے 6 سٹریٹجک شرائط پیش کردیں
-
ایران جنگ، خطے میں ہونیوالی اموات کی ہوشربا تفصیلات سامنے آگئیں
-
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ہائی اوکٹین پر لیوی بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری
-
پیٹرول مہنگا،پاکستان میں پلگ اِن ہائبرڈ اور رینج ایکسٹینڈڈ گاڑیاں مقبول ہونے لگیں









































