جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

حج اخراجات کیلئے درکار ڈالرز کی وزارت حج کو فراہمی شروع کردی گئی

datetime 27  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)حج اخراجات کیلئے درکار ڈالرز کی وزارت حج کو فراہمی شروع کردی گئی، 5کروڑ ڈالرز پہلی قسط کی صورت میں حج ڈائریکٹوریٹ کو فراہم کردئیے گئے، سرکاری ریگولر اسکیم کے تحت اضافی درخواست گزاروں کو بغیر قرعہ اندازی حج پر بھیجاجائے گا۔

وزارت مذہبی امور کو حج اخراجات کے لئے درکار 21کروڑ30لاکھ ڈالرز کی فراہمی شروع کردی گئی ، اسٹیٹ بنک نے 5 کروڑ ڈالرز کی پہل قسط جاری کردی، 4کروڑ ڈالرز کی دوسری قسط بھی جاری کردی گئی ہے جو تین سے چار روز میں پاکستانی حج ڈائریکٹوریٹ سعودیہ کو منتقل ہوجائیگی، وزارت مذہبی امور کو درکار رقم چار اقساط میں فراہم کی جارہی ہے، وزارت مذہبی امور کے مطابق 6کروڑ ڈالرز کی تیسری قسط 30اپریل جبکہ 6کروڑ 30لاکھ ڈالرز مئی کے تیسرے ہفتے تک درکار ہوں گے، ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے درکار ڈالرز طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، یہ رقم ایئر لائنز کو کرائے،رہائش گاہوں،ٹرانسپورٹ اور ٹیکسز کی مد میں ادا کئے جانے ہیں، رواں سال سرکاری اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 89 ہزار 605 عازمین حج کا کوٹہ مقرر کیا گیا تھا جبکہ کوٹہ سے تقریباً نو ہزار کم درخواستیں موصول ہوئیں، اسپانسر شپ اسکیم کے تحت درخواست گزاروں کی تعداد آٹھ ہزار رہی،سرکاری ریگولر اسکیم کے تحت 44ہزار 190 کے کوٹہ پر 28ہزار 679 اضافی درخواستیں آئیں، سرکاری ریگولر اسکیم کے تحت اضافی درخواست گزاروں کو بغیر قرعہ اندازی حج پر بھیجا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…