ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت عدالت کا بائیکاٹ نہیں کر سکتی،چیف جسٹس پاکستان کے ریمارکس

datetime 3  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب اور خیبرپختونخوا التوا کیس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو کیا ہدایت ملی ہیں،حکومت عدالت کا بائیکاٹ نہیں کر سکتی۔نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا التوا کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل تھے،سیکرٹری دفاع، سیکرٹری الیکشن کمیشن، ڈپٹی سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے ۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو کیا ہدایت ملی ہیں،حکومت عدالت کا بائیکاٹ نہیں کر سکتی۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ حکومت بائیکاٹ نہیں کرسکتی،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سنجیدہ اٹارنی جنرل سے ایسی ہی توقع تھی، اٹارنی جنرل نے کہاکہ حکومت آئین کے مطابق چلتی ہے۔اٹارنی جنرل پاکستان نے کہاکہ درخواست میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قراردینے کی استدعا ہے، صدر کو کے پی میں تاریخ دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے، درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی فیصلہ ہے، فیصلے میں عدالت نے پنجاب کیلئے صدر، کے پی کیلئے گورنر کو تاریخ دینے کا کہا تھا،گورنر کے پی نے درخواستیں دائر ہونے تک کوئی تاریخ نہیں دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…