ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ایرانی چیف جسٹس کی بے حجاب خواتین کو بے رحمانہ کارروائی کی دھمکی

datetime 2  اپریل‬‮  2023 |

تہران (این این آئی )ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجی نے حجاب کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو سخت سزا دینے بیان دیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایران حکومت گذشتہ چند ماہ سے حجاب کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہی ہے،

ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ حجاب کو ہٹانا اقدار کے ساتھ دشمنی سمجھا جاتا ہے اور جو لوگ اس اصول کو نہیں مانتے ہیں انہیں سزا دی جائے گی۔چونکہ ایران میں حجاب کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی ایرانی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اسی لئے ایرانی حکومت خواتین کو مسلسل باحجاب رہنے کی تنبہ کر رہی ہے۔غلام حسین محسنی کہا کہ وہ خواتین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جو سرعام بے نقاب دکھائی دیتی ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ بے نقاب کرنا (ہماری)اقدار سے دشمنی کے مترادف ہے۔ وہ لوگ جو اس طرح کی غیر اخلاقی حرکتیں کرتے ہیں انہیں سزا دی جائے گی اور بغیر کسی رحم کے مقدمہ چلایا جائے گا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کہ سزا کیا کیا ہوگی۔ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی حجاب کی واضح اور کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو عدالت میں پیش کرنے کے پابندہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…