ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے معافی کی پٹیشن پر دستخط کر دیے

13  جولائی  2021

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے معافی کی پٹیشن پردستخط کرا لیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت علی محمد خان نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے معافی کی پٹیشن پر دستخط کرا لیے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر کے

مطابق عافیہ صدیقی کو خاندان سے بات کرنے کی اجازت ہے جبکہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ انہیں پاکستان واپس لایا جائے۔
علی محمد خان کے مطابق امریکا میں ہمارا سفارت خانہ عافیہ صدیقی سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہ ہی وزیراعظم عمران خان اور نہ قوم عافیہ صدیقی کو بھولی ہے، لہذا ایسے معاملات کو سیاسی نہیں بنانا چاہیے۔ کچھ مجبوریاں ہیں لیکن عافیہ صدیقی کی صحت ٹھیک ہے، حکومت اس معاملے میں بے خبر نہیں ہے۔خیال رہے ٹرمپ کے دور حکومت کے آخری ایام میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے رحم کی اپیل پر دستخط کر دیے ہیں۔ذرائع کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے کوشش کی گئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ جاتے جاتے عافیہ صدیقی کیلئے عام معافی کا اعلان کر جائیں، تاہم انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پھر جوبائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے عافیہ صدیقی کو رہائی دلوانے کیلئے نئے سرے سے کوششوں کا آغاز کیا تاہم کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی تھی۔

موضوعات:



کالم



فواد چودھری کا قصور


فواد چودھری ہماری سیاست کے ایک طلسماتی کردار…

ہم بھی کیا لوگ ہیں؟

حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…