انور منصور کے بعد فروغ نسیم سے بھی استعفیٰ طلب

  ہفتہ‬‮ 22 فروری‬‮ 2020  |  16:16

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان بار کونسل نے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کی طرف سے سپریم کورٹ کے لاجر بنچ کے خلاف یہ بیان کو واپس لینے اور غیر مشروط استعفیٰ دینے کے عمل کو خوش آئند قرار دیا ہے ۔سیکرٹری بار کونسل کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل نے کورٹ نمبر 1 میں دیئے گئے بیان کے بعد میڈیا سے غی رسمی گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا کہ ان کے اس بیان کا وفاقی گورنمنٹ کے ذمہ داران کو پہلے سے علم تھا جو کہ اعلی عدلیہ کو


نیچا دکھانے کی گنائونی سازش لگتی ہے ۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ہی وہ متعلقہ شخص ہیں جن کی مشاورت سے یہ بیان دیا گیا ۔بیرسٹر فروغ نسیم اپنے گزشتہ کردار کے سبب ویسے ہی مشکوک گردانے جاتے ہیں ۔ مشرف غداری کیس ، آرمی چیف توسیع کیس اور قاضی فائز عیٰسی کے خلاف دائر ریفرنسز میں ان کے کردار پر ایک اعلی اختیاراتی جوڈیشل کمیشن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے جو آئین ، رول آف لاء اور جمہوری اقدار کی بالادستی کے لئے غیر جانبدارانہ انکوائری کر کے ان سارے معاملات میں بیرسٹر فروغ نسیم کے کردار کو واضح کرے ۔بیرسٹر فروغ نسیم کا کردار قومی مفاد کے خلاف اور گورنمنٹ کی بدنامی کا سبب بنا ہے ۔وزیر اعظم پاکستان کو چاہئے کہ وسیع تر قومی مفاد میں وہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو فوری طور پر ان کے عہدے سے فارغ کریں ۔


موضوعات: