اسٹیبلشمنٹ نے پرویز الٰہی پر پورا زور لگایا کہ وہ (ن) لیگ کے وزیر اعلی بن جائیں، عمران خان کا دعویٰ

  بدھ‬‮ 18 جنوری‬‮ 2023  |  16:01

لاہور ( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان نے دوٹوک انداز میں ملک بھر میں آئندہ عام انتخابات کی اپریل 2023ء میں پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اس وقت نئی فوجی قیادت سے کوئی ریلیشن شپ نہیں،ہم ایک دلدل میں ڈوبتے جا رہے ہیں، سری لنکا جیسی صورتحال سے بچانے کے لیے حل صرف صاف و شفاف انتخابات ہیں،

پرویز الٰہی کو (ن) لیگ کا وزیر اعلی بننے کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے ہم سے وفاداری نبھائی ،وہ تحریک انصاف میں ضم ہوکر ہماری پارٹی کا حصہ بن جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے پرویز الٰہی پر پورا زور لگایا کہ وہ (ن) لیگ کے وزیر اعلی بن جائیں یا وزارت اعلی (عمران خان کے کہنے کے باوجود) نہ چھوڑیں۔ مگر انہوں نے ہم سے وفاداری نبھائی اور ہمیں وفاداری واپس دینی تھی۔ وہ یہ ہے کہ وہ تحریک انصاف میں ضم ہوجائیں گے اور ہماری پارٹی کا حصہ بن جائیں گے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو کے دوران سوال کیا گیا کہ کیا وہ معاشی اور ملکی بہتری کے لیے حکومت سے بات کرنے کو تیار ہیں؟۔ اس پر سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج تک کون سا سیاسی رہنما آیا ہے جو اپنی حکومت گرا دیتا ہے جو کہ 70فیصد پاکستان ہے،یہ حکومت آکشن کے ذریعے آئی ہے، الیکشن کے ذریعے نہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے آئی ہے جس نے 20، 25کروڑ روپے دے کر لوگوں کو خریدا۔ انہوں نے 1100ارب روپے کے کرپشن کیسز ختم کروائے، ہماری معیشت کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا۔ کبھی پاکستان کے معاشی حالات وہ نہیں جو آج ہیں۔عمران خان نے کہا کہ اس کا ایک ہی حل ہے: صاف و شفاف انتخابات۔ جب تک پاکستان میں الیکشن نہیں ہوتے، نہ اندر سے کوئی سرمایہ کار، کاروباری شخصیت ان پر اعتماد رکھتا ہے۔ نہ باہر سے کوئی ان پر اعتماد رکھتا ہے۔ہم ایک دلدل میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔ سری لنکا جیسی صورتحال سے بچانے کے لیے حل ایک ہی ہے فری اینڈ فیئر الیکشن۔

اس وجہ سے ہم نے اپنی دو حکومتیں گرائی ہیں۔عمران خان نے کہا کہ فرق یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے قانون کی بالادستی کی دھجیاں اڑا دی ہیں یعنی اپنے آپ کو قانون کے اوپر کر دیا ہے۔ ساری چوری معاف کروا دی ہے، یہ وہ کیسز تھے جو ان کے اپنے ادوار میں بنے ہوئے تھے۔شہباز، نواز، زرداری، مریم یہ سب بچ گئے ہیں، ان پر سارے کیسز ختم ہوگئے ہیں، یہ جتنی دیر اور چاہیں گے،

ان کا مقصد اپنے کیسز ختم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت دو مہینے بھی بہت دور لگ رہے ہیں۔ آپ نے اگست کہا مگر میں تو ابھی کی بات کر رہا ہوں۔ ہمیں یہ خطرہ ہے کہ جس طرح ہماری معیشت گِر رہی ہے، ہمارے چار ارب ڈالر کے ذخائر رہ گئے ہیں۔ بندرگاہ پر چار ارب کی چیزیں پڑی ہیں جو اٹھا نہیں رہے۔ چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں، بے روزگاری، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔ہمیں ان کے دو ماہ اور گزارنا مشکل لگ رہا ہے۔

میری اپنی پیشگوئی ہے کہ جو بھی ہوجائے، یہ حکومت اپریل میں الیکشن کرانے پر مجبور ہوجائے گی۔سابق وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے پرویز الٰہی پر پورا زور لگایا کہ وہ (ن) لیگ کے وزیر اعلی بن جائیں یا وزارت اعلی (عمران خان کے کہنے کے باوجود) نہ چھوڑیں۔ مگر انہوں نے ہم سے وفاداری نبھائی اور ہمیں وفاداری واپس دینی تھی۔ وہ یہ ہے کہ وہ تحریک انصاف میں ضم ہوجائیں گے

اور ہماری پارٹی کا حصہ بن جائیں گے۔نئی فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا ہک ان سے کوئی یہ سوال پوچھے کہ انہون نے سازش کر کے ہماری حکومت کیوں گرائی تھی؟ جبکہ 17سال میں ہماری سب سے بہتر معاشی کارکردگی تھی۔ہم کون سی کوئی غلطی کر رہے تھے جو انہوں نے ایک آدمی کے ساتھ مل کر ہماری حکومت گرائی۔

اس کے بعد ان سے سنبھالی نہیں گئی۔میں نے اور شوکت ترین نے مل کر جنرل باجوہ کو بتایا تھا کہ اگر آپ نے سیاسی عدم استحکام پیدا کیا، یہ سازش کامیاب کرنے کے لیے، تو معیشت کو کوئی بھی نہیں سنبھال سکے گا اور وہی ہوا۔ان سے سنبھالی نہیں گئی۔ مارکیٹ نے ان پر جلد اعتماد کھو دیا۔ یہ اپنی چوریاں اور این آر او ٹو لے رہے تھے۔ ملک کے اندر افراتفری پیدا ہونے لگی۔

تو آج ذرا کسی کاروباری شخصیت سے پوچھیں۔ کیا یہ ہماری وجہ سے ہوا ہے؟ یہ انہیں آتے ساتھ ہی اندازہ ہوا کہ ان کے پاس تو روڈ میپ ہی نہیں ۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج اٹھا کر دیکھ لیں پاکستان میں اپریل میں کدھر کھڑا تھا اور آج کدھر کھڑا ہے۔میری دفعہ انہوں نے تین لانگ مارچز کیے تھے، سارا وقت انہوں نے میری حکومت پر تنقید کی، اس کے باوجود ہم ترقی کر رہے تھے۔

اس سوال پر کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ عمران خان اور ان کی جماعت کے کیسے روابط ہیں اور آیا انہوں نے صدر عارف علوی کی مدد سے نئی قوجی قیادت کے ساتھ رابطے قائم کیے ہیں، عمران خان نے کہا کہ دیکھیں، ہمارا اس وقت (نئی فوجی قیادت)سے تو کوئی ریلیشن شپ نہیں۔

بطور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے تسلیم کیا کہ انہوں نے کئی معاملات پر اپنا موقف تبدیل کیا ہے مگر طالبان کے ساتھ بات چیت کا وہ موقف ہے جس پر ان کی کم و بیش ایک ہی پالیسی رہی ہے ،امن مذاکرات اور بحالی۔عمران خان سے پوچھا گیا کہ ملک بھر میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد کیا ان کے اس موقف میں تبدیلی آئی ہے۔جس پر سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا۔

جیسے ہی افغانستان میں رجیم چینج ہوئی، تو افغانستان میں بیٹھی ٹی ٹی پی کو افغان حکومت نے پاکستان واپس جانے کا کہا۔ غنی حکومت ان کی حوصلہ افزائی کرتی تھی اور یہ وہیں سے پاکستان پر حملے کرتے تھے۔جب یہ دوسری (طالبان کی)حکومت آئی تو انہوں نے کہا واپس جائو۔

اب جب انہوں نے واپس آنا تھا تو پاکستان کے پاس کیا راستے تھے؟ دو راستے تھے۔ یا تو ان چالیس ہزار لوگوں، جنگجوں اور ان کے خاندانوں کو کھڑا کر کے گولی مار دیتے۔ اگر وہ نہیں کرنا تھا تو ان کا ری ہیبلٹیٹ کرنا تھا۔ ساری سیاسی جماعتیں اس کے لیے متفق تھیں مگر ایسا نہیں ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ شدت پسندی میں تیزی اچانک نہیں آئی۔ آہستہ آہستہ جب وہ آئے تو انہیں ری ہیبلٹیٹ نہیں کیا گیا، ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے اوپر کوئی پیسہ نہیں خرچ کیا جو ہم نے فیصلہ کیا تھام ہمیں خوف تھا کہ اگر ان پر توجہ نہ دی گئی تو پھر جگہ جگہ دہشتگردی شروع ہو جائے گی، جو ہو گئی ہے۔



زیرو پوائنٹ

اب تو آنکھیں کھول لیں

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎