جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرلیا، ڈاکٹر دانش کا پروگرام بند کردیا،زلفی بخاری کیخلاف ایکشن کے بجائے آ پ میڈیا کیخلاف پالیسیاں بناتے رہے؟ صحافی کے سوال پر جانتے ہیں وزیر اعظم عمران خان نے کیا جواب دیا؟

datetime 25  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کی کہ ’’ پاکستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے مرنے والے 6 میں سے 4 افراد پہلے سے ہی کینسر کے مریض تھے،چین سے پاکستان میں کوئی مریض نہیں آیا ،ایران میں مسائل تھے‘‘۔ایک سینئر صحافی نے سوال کیا کہ زلفی بخاری پر تنقید بھی ہورہی ہے کہ ان کی وجہ سے ایران سے لوگ پاکستان آئے۔

آپ نے وہ اقدامات کیوں نہیں اٹھائے جو چین کے بارڈر پر اٹھائے گئے، 15 جنوری سے وائرس کے پھیلا ئوکا پتا تھا لیکن کوئی ایمرجنسی اقدامات نہیں کیے، آپ اس سارے وقت میں میڈیا سے ناراض تھے اور میڈیا کے خلاف پالیسیاں بناتے رہے، میر شکیل کو گرفتار کیا ، ڈاکٹر دانش کا پروگرام بند کروادیا گیا۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کے اندر ضروری ہے کہ افراتفری نہ مچے، کورونا سے زیادہ افراتفری میں غلط فیصلے کرنے سے خطرہ ہے، پاکستان میں جیسی میڈیا کو آزادی ہے ایسی مغرب کی کسی جمہوریت میں بھی نہیں ہے، جس طرح کی باتیں یہاں کی جاتی ہیں ویسی مغرب میں کی جائیں تو اتنے جرمانے ہوں کہ اخبارات بند ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ 15 جنوری سے ہماری ٹیمیں اس پر موجود تھیں، اٹلی کے مقابلے میں ہم نے بڑی حد تک قابو پایا ہے، پاکستان میں مرنے والے 6 میں سے 4 افراد کینسر کے مریض تھے، ووہان میں پھنسے بچوں کے معاملے پر اس لیے کامیاب ہوئے کیونکہ چین کا کنٹرول تھا، صدر شی جن پنگ ہمیں مسلسل بتاتے رہے اس لیے وہاں سے ایک بھی مریض نہیں آیا۔ ایران سے بھی رابطے میں تھے، وہاں جس طرح پھیلی وہ اس طرح ڈیل نہیں کرسکا جس طرح چین نے کیا تھا، ایران کے پاس وہ وسائل نہیں تھے اس لیے پاکستانی تفتان بارڈر پر آکر بیٹھ گئے۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ شاید عالمی پابندیوں کی وجہ سے ایران میں خود مسئلے تھے اس لیے ڈاکٹر ظفر یہاں سے خود تفتان گئے اور سہولیات کا جائزہ لیا، بڑی مشکلوں سے فوج کے ساتھ مل کر موبائل لیب وہاں لے کر گئے، اس ویرانے میں یہ توقع کرنا کہ اس کو کنٹرول کرلیتے بڑا مشکل تھا، اگر آج ہمارے ہاں اتنا کنٹرول ہے اور اگر ہم کامیاب ہوگئے تو ہم باقی دنیا سے بہت بہتر ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…