جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

صوبوں نے ترقیاتی کام کرنے کے بجائے 2 کھرب 2 ارب وفاق کو واپس کردیے لیکن کیوں؟وجہ سامنے آگئی

datetime 9  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں چاروں صوبوں نے مل کر2 کھرب 2 ارب روپے کی رقم وفاقی کو فراہم کی ہے تاکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مقرر کیے گئے مالیاتی اہداف پورے کیے جاسکیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ صوبوں نے وفاق کی جانب سے تقسیم کیے جانے والے فنڈز میں سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک چوتھائی (25 فیصد) سے زائد رقم استعمال نہیں کی۔اس طرح صوبوں نے مالی سال 20-2019 کی پہلی سہ ماہی(جولائی سے ستمبر) میں وفاق کو واپس کیے جانے والے فنڈز کے حوالے سے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے 2 کھرب 2 ارب روپے واپس کردیے جو سالانہ ہدف 4 کھرب 23 ارب روپے کا 48 فیصد ہے۔وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں صوبوں کی مجموعی آمدن 7 کھرب 91 ارب روپے تھی، جس میں فیڈرل ریونیو کی مد میں ان کا مشترکہ حصہ 6 کھرب 12 ارب 50 کروڑ روپے ہے جبکہ صوبائی ٹیکسز 1 کھرب 4 ارب 50 کروڑ روپے ہیں۔اس کے برخلاف صوبوں نے صرف 5 کھرب 89 ارب روپے خرچ کیے جبکہ 2 کھرب 2 ارب وفاق کو دیے گئے لیکن صوبائی حکومتوں نے اپنے ترقیاتی کاموں پر صرف 70 ارب روپے خرچ کیے۔اس طرح صوبوں کو دستیاب آمدن میں سے ترقیاتی کاموں پر اخراجات کی شرح محض 9 فیصد رہی۔اعداد و شمار کو دیکھیں تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) یا اس کی اتحادی جماعتوں کی صوبائی حکومتوں نے ترقیاتی اخراجات کی مد میں زیادہ کفایت شعاری سے کام لیا اور وفاق کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مالی تعاون کیا۔

مثال کے طور پر پنجاب نے 3 کھرب 66 ارب روپے کی مجموعی آمدن کا 21 فیصد یعنی 75 ارب 40 کروڑ روپے وفاق کو دیے جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر 12 فیصد سے بھی کم 43 ارب روپے خرچ کیے۔دوسری جانب حکومت خیبرپختونخوا نے اپنی کل آمدن ایک کھرب 41 ارب روپے کا 38 فیصد یا ایک تہائی سے زائد 54 ارب روپے استعمال ہی نہیں کیے جبکہ اس آمدن کا 6 فیصد سے بھی کم حصہ تقریباً 8 ارب 40 کروڑ روپے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیے۔

اسی طرح بلوچستان نے اپنی آمدن کا سب سے زیادہ حصہ یعنی 37 ارب 30 کروڑ روپے یا 43.4 فیصد وفاق کو واپس کیا جبکہ ملک کے سب سے پسماندہ صوبے نے اپنے وسائل کا انتہائی معمولی 4.3 فیصد یعنی 3 ارب 70 کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کی مد میں خرچ کیے۔ان سب کے برخلاف سندھ نے سب سے کم یعنی 35 ارب 50 کروڑ روپے فراہم کیے جو اس کی مجموعی آمدن کے 18 فیصد حصے سے بھی کم ہے جبکہ سندھ حکومت نے اپنی آمدن کا 8 فیصد یا 16 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے۔آئی ایم ایف نے سرکاری خزانے کے موثر انتظامات اور عوام کے لیے کیے گئے اخراجات کا معیار اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے صوبوں کے اخراجات کو محدود کردیا تھا تاکہ وفاق کی زیادہ سے زیادہ مدد ہوسکے۔اس ضمن میں وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف سے تحریری معاہدہ کیا تھا کہ صوبوں کے ذریعہ مالی استحکام اور محصولات میں توسیع اس کے مالی حکمت عملی کا کلیدی جزو ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…