معمولی سی توجہ

  جمعہ‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2015  |  0:01

میلان کی ایکسپو اور بریشیا کی پاکستانی کمیونٹی یہ دونوں ہمیشہ میری یادوں کا حصہ رہیں گی‘ دنیا میں پانچ سال بعد ”ورلڈ ایکسپو“ ہوتی ہے‘ دنیا کے 165 ممالک ایکسپو کےلئے باقاعدہ ووٹ دیتے ہیں‘ ملک کا انتخاب ہوتا ہے‘ ملک کو تیاری کےلئے سات سال دیئے جاتے ہیں اور پھر اس ملک میں 165 سے زائدممالک اپنی ثقافت‘ اپنی ٹیکنالوجی کی نمائش کرتے ہیں۔ ”ورلڈ ایکسپو“‘ میزبان ملک کی تاریخ کا بڑا واقعہ‘ بڑا بریک تھرو ہوتا ہے‘ یکم مئی 2015ءکو میلان میں ورلڈ ایکسپو 2015ءشروع ہوئی‘ یہ 30 اکتوبر تک جاری رہے گی‘ 2020ءمیں یہ ایکسپو دبئی میں ہو گی جبکہ پچھلی ایکسپو 2010ءمیں شنگھائی میں ہوئی تھی‘یہ ایکسپو اٹلی جانے کا بنیادی مقصد تھا‘ رانا نوید نے ایکسپو کےلئے میری رہنمائی کی‘ رانا صاحب


گوجرانوالہ کے رہنے والے ہیں‘ یہ دو بھائی ہیں‘ رانا نثار بڑے ہیں اور رانا نوید چھوٹے۔ یہ ” میٹل سکریپ“ کا کاروبار کرتے ہیں‘ دن رات سر نیچے کر کے کام کرتے ہیں‘میری تین سال پہلے دونوں بھائیوں سے پہلی ملاقات ہوئی‘ یہ دوسری ملاقات تھی‘ رانا نوید مجھے ایکسپو میں لے گئے‘ ایکسپو ٹیکنالوجی‘ کلچر اور حس جمال کا شاہکار تھی‘ نمائش میں 145 ممالک کے پیولین ہیں‘ ہر پیولین حیرت نگری ہے‘ آپ جس پیولین میں داخل ہوجائیں آپ اسی کے ہو کر رہ جاتے ہیں‘ اٹلی کی حکومت نے ایکسپو کےلئے مسلسل دس سال کام کیا‘ ایکسپو سائٹ تک باقاعدہ ریلوے اور میٹرو بچھائی گئی‘ ٹرینیں یورپ بھر سے براہ راست ایکسپو سائٹ آتی ہیں‘ میلان سے آنے جانے کےلئے میٹرو بھی دستیاب ہے جبکہ شہر کے سنٹرل سٹیشن سے بسیں بھی چلتی ہیں‘ آپ کو ایکسپو سنٹر کا ریلوے سٹیشن حیران کر دیتا ہے‘ یہ کسی بھی طرح ائیر پورٹ سے کم نہیں‘ سائٹ پر بڑی اور کھلی سڑکیں ہیں‘ پانی کی ندیاں‘ فوارے اور باغیچے ہیں‘ پوری ایکسپو سائٹ پر تمبو تنے ہوئے ہیں‘ فضا کو ٹھنڈا رکھنے کا خصوصی بندوبست ہے‘ ہر پیولین کے سامنے مصنوعی آبشار ہے اور آبشار سے مسلسل پانی کی دیوار نیچے گر رہی ہے‘ پانچ پیولین کے بعد فوڈ کورٹس ہیں‘ بیرونی دروازوں کو پلوں اور برقی سیڑھیوں سے ملایا گیا ہے‘ آپ کو داخلے کے گیٹ سے نمائش گاہ تک پہنچنے میں بیس منٹ لگ جاتے ہیں‘ نمائش کا ٹوٹل رقبہ 490 ایکڑ ہے‘ آپ کو پوری نمائش دیکھنے کےلئے کم از کم سات دن درکار ہیں‘ یہ پوری نمائش گاہ دیکھنے کے قابل ہے لیکن برطانیہ‘ آسٹریا‘ کیوبا‘ چین‘ برازیل‘ جاپان اور لیتھونیا کے پیولین جادو کی نگری ہیں‘ برطانیہ نے پیولین میں مصنوعی لان اگا رکھا ہے‘ آپ لان کی قد آدم جھاڑیوں‘ خوشبو دار پودوں اور چھوٹے جنگلی ٹڈوں کی آوازوں سے ہوتے ہوئے پیولین کے درمیان پہنچتے ہیں تو آپ لوہے کا دو منزلہ سٹرکچر دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں‘ یہ سٹرکچر لوہے کے لاکھوں چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑ کر بنایا گیا ‘ یہ بنیادی طور پر شہد کا دو منزلہ چھتہ ہے جس کے اندر تین رنگوں کی لائیٹس لگی ہیں

یہ لائیٹس انرجی کے مطابق جلتی ‘بجھتی اور رنگ بدلتی ہیں‘ آسٹریا نے اپنے پیولین میں گھنا سیاہ جنگل اگا رکھا ہے‘ آپ جنگل میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں‘ یہ جنگل کے ذریعے دنیا کو آکسیجن کی افادیت اور گلوبل وارمنگ سے بچاﺅ کا پیغام دیتے ہیں‘ چین نے طویل و عریض پیولین میں پھولوں کی گھنی کیاریاں لگا رکھی ہیں‘ آپ جوں ہی پیولین کے قریب پہنچتے ہیں آپ کو گیندے کی خوشبو مسحور کر دیتی ہے‘ جاپان کا پیولین لکڑی کے لاکھوں ٹکڑے جوڑ کر بنایا گیا‘ لیتھونیا نے پوراپیولین لکڑی کے لاکھوں ٹکڑے جوڑ کر بنایااور برازیل کا پیولین جنگل‘ روشنی اور ٹیکنالوجی تینوں کا مجموعہ ہے‘ یہ ایکسپو ایک لائف ٹائم تجربہ ہے‘ آپ کو وہاں دنیا کی تمام قومیتوں کے لوگ ملتے ہیں‘ آپ دنیا بھر کی ثقافت‘ موسیقی اور کھانوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں‘ آپ پاکستان کی بدقسمتی دیکھئے ہم اس نمائش سے بھی غیر حاضر ہیں‘ پاکستان ایکسپو کا رکن ملک ہے لیکن اٹلی کی خواہش اور کوشش کے باوجود ہم نے وہاں اپنا پیولین نہیں بنایا‘ ہم اگر پیولین بناتے تو اس سے پاکستان کے گلوبل امیج میں بہتری آتی‘ ہماری حکومت کو ایسے مواقع ضائع نہیں کرنے چاہئیں‘ وزیراعظم کو چاہیے یہ ملک میں ایک ایکسپو باڈی بنائیں‘ یہ باڈی ایکسپو کےلئے درجن بھر ڈیزائن بنا ئے اور دنیا میں جہاں نمائش ہو یہ وہاں پاکستان کا سٹال یا پیولین لگائے‘ اس سے بین الاقوامی سطح پر ہمارا امیج بہتر ہو گا۔ بریشیا میلان سے 45 منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ یہ اٹلی کا ”سٹیل سٹی“ ہے‘ شہر سے باہر لوہے اور مختلف دھاتوں کے درجنوں کارخانے اور سٹیل ملز ہیں‘ آپ کو وہاں دور دور تک کارخانے دکھائی دیتے ہیں‘ انڈسٹری کا اطالوی ماڈل دلچسپ بھی ہے اور کارآمد بھی۔ اطالوی حکومت نے بڑے شہروں کے گرد آباد دیہات کو انڈسٹریل زون میں تبدیل کر دیا‘ دیہات میں انڈسٹری لگی اور اس انڈسٹری کی وجہ سے پورے علاقے کی ہیئت تبدیل ہو گئی‘ گاﺅں شہر بن گئے‘ وہاں سڑکیں بنیں‘ ریلوے کی پٹڑی بچھی‘ شاپنگ سنٹر بنے اور ہسپتال اور سکول قائم ہوئے‘ یہ دیہات آج صرف کہنے کی حد تک گاﺅں ہیں جبکہ حقیقت میں یہ پورے شہر ہیں‘ میلان اٹلی کا سب سے بڑا انڈسٹریل سٹی ہے‘ اس میں دو ہزار فیکٹریاں ہیں‘ یہ فیکٹریاں دیہات میں قائم ہیں‘ آپ میلان کے اطراف میں کسی طرف نکل جائیں‘ آپ کو سینکڑوں میل تک چمنیاں نظر آتی ہیں‘ میں طویل عرصے سے ”کنالی“ کی فیکٹری دیکھنا چاہتا تھا۔ یہ مردانہ سوٹس میں دنیا کا دوسرا بڑا برانڈ ہے‘ یہ برانڈ کنالی فیملی نے 1934ء میں قائم کیا‘ آج خاندان کی تیسری نسل اس کاروبار سے وابستہ ہے‘ کنالی کی فیکٹری اور آﺅٹ لیٹ سوویکو گاﺅں میں ہے‘ یہ پورا گاﺅں ”کنالی“ سے منسلک ہے‘ گاﺅں کے آدھے لوگ فیکٹری میں کام کرتے ہیں یا فیکٹری کےلئے کام کرتے ہیں‘ ان لوگوں میں میرے شہر لالہ موسیٰ کے ایک صاحب بھی شامل ہیں‘ شکیل قریشی دس سال سے کنالی سے وابستہ ہےں‘ یہ مجھے وہاں ملے اور میں ان کی استقامت کو داد دیئے بغیر نہ رہ سکا‘ بریشیا شہر کے اردگرد دیہات میں بھی سینکڑوں فیکٹریاں ہیں‘ ان فیکٹریوں میں 20 ہزار پاکستانی کام کرتے ہیں‘ یہ لوگ زیادہ تر لوہے کی فیلڈ سے وابستہ ہیں‘ اٹلی میں پاکستانیوں کی کل تعداد ایک لاکھ چھ ہزار ہے‘ 28 ہزار پاکستانی صرف بریشیا میں رہتے ہیں‘ اتوار کے دن بریشیا میں پاکستانی کمیونٹی کا فنکشن تھا‘ یہ تقریب پاکستان اوورسیز الائنس فورم نے منعقد کی ‘ برادرم اعجاز پیارا تقریب کے روح رواں تھے جبکہ تمام انتظامات کی ذمہ داری اجمل خان نے اٹھا رکھی تھی‘ اجمل خان پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتے ہیں‘ میاں نواز شریف کے متوالے ہیں‘ یہ میاں صاحب پر جان اور مال دونوں نثار کرنے کےلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں‘ یہ سب کچھ برداشت کر لیتے ہیں لیکن

میاں برادران کے خلاف ایک لفظ نہیں سنتے‘ میں ان سے مل کر حیران ہوا اور میں نے سوچا‘ میاں برادران نے آج تک اس شخص کے اخلاص اور ٹیلنٹ سے کام کیوں نہیں لیا؟ اجمل خان اور اعجاز پیارا نے بریشیا میں ہزار سے زائد پاکستانی جمع کئے‘ پاکستان کی سفیر تہمینہ جنجوعہ‘ میلان کے قونصل جنرل ندیم خان اور اٹلی میں ویلفیئر اتاشی اختر عباس بھی وہاں موجود تھے‘ یہ تینوں تقریب میں خواتین اور بچوں کی تعداد پر حیران تھے‘ پاکستانی اٹلی میں اپنی خواتین کو تقریبات میں نہیں لے کر آتے‘ یہ رویہ اطالوی شہریوں کےلئے حیران کن ہے‘ سفیر پاکستان تہمینہ جنجوعہ پاکستانی کمیونٹی پر بار بار زور دیتی ہیں آپ اپنے بچوں اور خواتین کو اطالوی زبان سکھائیں‘ آپ انہیں گھر سے باہر بھی لے کر جائیں تا کہ پاکستان کا امیج بہتر ہو لیکن پاکستانی کمیونٹی ضد پر قائم ہے تاہم سفیر صاحبہ کی کوششوں سے اب برف پگھل رہی ہے‘ تقریب میں تین سو کے قریب خواتین اور بچے شامل تھے‘ سفیر صاحبہ خواتین کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں‘ ہال میں پاکستان اور اٹلی کے قومی ترانے بھی بجائے گئے‘ پاکستانی بچوں نے پاکستانی ثقافت پر ٹیبلو بھی پیش کئے اور خواتین نے بھی نظمیں اور غزلیں پڑھیں‘ اٹلی کے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے بھی پاکستانی فنکشن میں شرکت کی‘ وہ بھی پاکستانی کمیونٹی کے ڈسپلن اور جذبات دیکھ کر حیران رہ گئے۔ میں اس فنکشن سے تین حیرتیں لے کر واپس آیا‘ یہ میری زندگی کی پہلی پاکستانی تقریب تھی جو چار گھنٹے جاری رہی اور جس میں ہزار سے زائد پاکستانی موجود تھے لیکن وہاں لڑائی‘ مار کٹائی اور گالم گلوچ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا‘ آپ بھی یہ جان کر یقینا حیران ہوں گے وہاں کھانے کے دوران بھی کوئی جھڑپ نہیں ہوئی‘ دو‘ یہ بیرون ملک پاکستانیوں کا واحد فنکشن تھا جس میں کسی پاکستانی نے پاکستانی سفارتخانے کے خلاف کوئی شکایت نہیں کی‘ لوگ سفارتخانے کے رویئے سے مطمئن ہیں‘ یہ بات بھی میرے لئے حیران کن تھی اور تین‘ لوگ اٹلی میں ”سیٹل لائف“ گزار رہے ہیں لیکن یہ پاکستان کے بارے میں انتہائی جذباتی ہیں‘ یہ اپنے ملک کو اٹلی سے بہت آگے دیکھنا چاہتے ہیں‘ مجھے پاکستانیوں کی اس تڑپ نے بھی حیران کیا‘ مجھے تقریب میں اندازہ ہوا‘پاکستان سے باہر آباد پاکستانی ملکی الیکشنوں میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں‘ یہ بار بار کہہ رہے تھے ‘اطالوی حکومت کو ہماری دوہری شہریت پر کوئی اعتراض نہیں‘ ہم اٹلی میں اٹلی کے سیاسی نمائندوں کو ووٹ دے سکتے ہیں لیکن ہمارا اپنا ملک ہمارا ووٹ نہیں لیتا‘کیوں؟ کیا یہ تضاد نہیں؟ اطالوی پاکستانیوں کا یہ مطالبہ جائز ہے حکومت کو اگلے الیکشنوں میں غیر ممالک میں آباد پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ضرور دینا چاہیے‘ اوورسیز پاکستانی ملک کا عظیم اثاثہ ہیں‘ حکومت کو پاکستان کے اس اثاثے کو عزت دینی چاہیے‘ اجمل خان جیسے محب وطن پاکستانیوں کےلئے پارلیمنٹ میں خصوصی نشست ہونی چاہیے تاکہ یہ پارلیمنٹ میں اپنے حقوق کا تحفظ کر سکیں اور 2015ءکے آخر تک یورپ میں مینول پاسپورٹ ختم ہو جائیں گے مگر اٹلی سمیت ہمارے زیادہ تر سفارت خانوں میں ابھی تک مشین ریڈایبل پاسپورٹس کی سہولت موجود نہیں‘ حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے پر بھی توجہ دینی چاہیے ورنہ دوسری صورت میں 2015ءکے آخر میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا‘ یہ تمام مسئلے حل ہو سکتے ہیں بس حکومت کی معمولی سی توجہ چاہیے‘ ایک کروڑ محب وطن پاکستانی اس معمولی سی توجہ کےلئے حکومت کے راستے میں آنکھیں بچھا کر بیٹھے ہیں‘ حکومت نہ جانے کب آنکھ اٹھا کر ان بے وطنوں کی طرف دیکھے گی۔