ا ب سعودی عرب میں بھی خواتین فوج کا حصہ ہوں گی، اجازت دے دی گئی

  اتوار‬‮ 21 فروری‬‮ 2021  |  23:39

ریاض(آن لائن )سعودی حکومت کی جانب سے خواتین کو فوج میں بھرتی کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق خواہشمند خواتین فوج میں داخلیکی درخواست آن لائن پورٹل پر دے سکتی ہیں۔ سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ خواتین سعودی آرمی، ائیر فورس، نیوی اور دیگر ادروں میں بھرتی کی درخواستیںجمع کروا سکتی ہیں۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ خواتین کی عمر 21 سے 40 سال، قد 155 سینٹی میٹریا زیادہ ہونا ضروری ہے۔دوسری جانب کویتی حکومت کی جانب سے غیر ملکی مسافروں کے ملک میں داخلے پر پابندی میں مزید توسیع


کردی گئی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق کویت میں شہری ہوا بازی کی انتظامیہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ملک میں غیر کویتیوں کے داخلے پر پابندی میں تا حکم ثانی توسیع کر دی گئی ہے تاہم طبی عملے اور سفارت کاروں کو اس فیصلے سے استثنا حاصل ہوگا۔ کویتی سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندی ملک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کے پیش نظر لگائی جارہی ہے جو آئندہ اعلان تک جاری رہے گی۔ اعلان میں مزید کہا گیا کہ کویتی مسافروں کو ملک میں داخل ہونے کے بعد 14 دن کے لیے قرنطینہ میں جانا ہوگا اور اس کے لیے ان کو ایک ہفتہ حکومت کی جانب سے منظور شدہ ہوٹل اور دوسرا ہفتہ گھر میں پورا کرنا لازمی ہوگا۔ اس سے قبل کویتی سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل نے کہا تھا کہ کو رونا وائرس سے زیادہ متاثر ممالک سے کویت پہنچنے والے مسافروں کو 14 دن کے لیے ذاتی خرچ پر مقامی ہوٹلوں میں قرنطینہ کرنا ہوگا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

نپولین فالٹ

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎