جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

بدتمیز بچوں کو قابو کرنے کیلئے انتہائی مفید تجاویز

datetime 7  جولائی  2016 |

لندن (نیوزڈیسک) برطانیہ میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو والدین اپنے بچوں کے ساتھ کنٹرولنگ رویہ رکھتے ہیں اور ان کو ان کی مرضی کے بغیر کوئی کام کرنے نہیں دیتے ان کے بچے آگے چل کر نفسیاتی مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں اور دوسرے بچوں کے مقابلے میں زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتے۔ یونیورسٹی کالج لندن کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق بچوں پر پابندیاں لگانے اور جبر کرنے والے والدین کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس سے ان کے بچوں میں زندگی بھر کے لیے نفسیاتی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں، جبکہ پاکستان نژاد ڈاکٹروں اور کمیونٹی شخصیات کا کہنا ہے کہ والدین کے ڈر سے تنہا زندگی گزرنے والے بچوں میں انتہا پسندانہ نظریات بھی فروغ پاتے ہیں اور وہ دہشت گردی کی جانب مائل ہوسکتے ہیں۔ برطانوی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق5ہزار افراد سے کیے جانے والے ایک سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن والدین کا بچوں پر کنٹرولنگ رویہ ہوتا ہے ان کے بچے اپنی زندگی میں زیادہ کامیاب نہیں ہوتے۔روزنامہ جنگ کے صحافی آصف ڈارکی رپورٹ کے مطابق ان کے ذہن پر بچپن کے نقوش ہمیشہ قائم رہتے ہیں، جبکہ ان کے مقابلے میں وہ بچے آگے کی زندگی میں بہت زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جن کے والدین کا ان کے ساتھ رویہ نرم ہوتا ہے اور انہوں نے بچوں کو آزادیاں دی ہوئی ہوتی ہیں۔ یہ سروے1946ء اور اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد سے کیا گیا ہے۔ سروے میں ان سے یہ پوچھا گیا تھا کہ ان کی زندگی کے مختلف ادوار میں ان کے بچپن کی زندگی کے اثرات کس طرح مرتب رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی پر بچپن میں والدین کے سلوک کے اثرات ساری زندگی کسی نہ کسی طرح موجود رہے ہیں۔ یو سی ایل کے ڈاکٹر مائی سٹافورڈ کا کہنا ہے کہ ہمیں لوگوں پر اپنی ابتدائی زندگی کے بہت زیادہ اثرات ہوتے ہیں۔ جو والدین بچوں کے ساتھ نرم رویہ ر کھتے ہیں ان کے بچے اپنی زندگی میں بھی والدین کے ساتھ جذباتی طور پر جڑے رہتے ہیں اور دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی مستقبل کی زندگی کے حوالے انتہائی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر والدین پر اقتصادی اور معاشرتی دبائو نہ ہو تو وہ اپنے بچوں کی زیادہ بہتر انداز میں خدمت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ پاکستانی ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بچوں کو کنٹرول کرنے کا معاملہ زیادہ تر پاکستانی، بنگلہ دیشی اور بھارتی والدین کے اندر ہوتا ہے۔ والدین کا خیال ہوتا ہے کہ اگر بچوں کو آزادیاں دی گئیں تو وہ خراب ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر فرخ حسین نے جنگ لندن کو بتایا کہ برطانیہ اور مغربی ممالک میں پاکستانی بچے ڈبل سٹینڈرڈ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف وہ یورپی سکولوں اور معاشرے کی کھلی فضائوں میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اور جب وہ گھروں میں آتے ہیں تو ان کو خالص پاکستانی یا اسلامی ماحول مل جاتا ہے۔ اس طرح بچے یہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ ان کو کس ماحول میں رہنا ہے، جبکہ ان کے والدین اس ڈر سے کہ ان کے بچے یورپی معاشروں میں بگڑ نہ جائیں، ان پر طرح طرح کی پابندیاں لگا دیتے ہیں۔ انہیں گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیتے، مگر جب وہ کالج اور یونیورسٹیوں میں پہنچتے ہیں تو دوسرے لوگوں سے ملنے کے بعد والدین سے بغاوت کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بچے یونیورسٹیوں میں انتہا پسندوں کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں اور دہشت گردی میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر فرخ حسین نے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ مفاہمت سے رہیں اور اگر انہیں کوئی بات سمجھانا چاہتے ہیں تو دلائل کے ساتھ سمجھائیں۔ ممتاز طبی ماہر ڈاکٹر جاویدشیخ نے کہا کہ جن بچوں کو والدین جبر کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں ان میں مستقبل میں اعتماد نہیں پیدا ہوتا اور وہ ہمیشہ کم اعتمادی کا شکار رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بچوں کی شخصیت نکھر کر سامنے نہیں آتی۔ بارکنگ کی کونسلر لیلیٰ بٹ نے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں پر بے جا پابندیاں نہیں لگانی چاہئیں۔ ان سے بچے سہمے رہتے ہیں، ان کے اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے۔ ایسے بچے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کے سلسلے میں ہمیشہ دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…