سرکاری عمارتوں کی تعمیر و مرمت میں تھرڈ کلاس اینٹیں استعمال کرنے کا انکشاف،سرکاری خزانے کو ایک ارب سے زائد نقصان کا سامنا

  بدھ‬‮ 13 جنوری‬‮ 2021  |  17:28

لاہور (آن لائن) صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب بھر میں وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزرائ، اعلیٰ افسران، سرکاری ہسپتال اور سرکاری سکولوں کی عمارتوں میں درجہ سوئم کی اینٹیں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف مالی سال 2018-19ء اور 2019-20ء کیآڈٹ رپورٹ میں پیروں کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ آڈیٹر جنرل پنجاب کی جانب سے کئے گئے آڈٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کا پبلک بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ سرکاری عمارتوں کی تعمیر و مرمت میں محکمہ خزانہ کے ایس او پیز کے تحت درجہ اول کی اینٹیں استعمال کرنے کا پابند ہے لیکن ٹھیکیداروں نے پبلک


بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی ملی بھگت سے درجہ سوئم کی اینٹیں استعمال کر کے سرکاری خزانے کو ایک ارب روپے سے زائد کا چونا لگایا ہے جو فراڈ کے زمرے میں آتا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ درجہ سوئم کی اینٹیں استعمال کرنے والے ٹھیکیداروں اور سرکاری افسران کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔


زیرو پوائنٹ

بلیک سٹارٹ

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎