جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

فیفا کا دباؤ : ایرانی خواتین کو سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کی اجازت

datetime 9  اکتوبر‬‮  2019 |

تہران (این این آئی)ایران نے فٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی (فیفا) کی دھمکی کے زیر اثر 40 برس بعد خواتین کو فٹ بال اسٹیڈیم میں جانے کی اجازت دے دی۔تفصیلات کے مطابق فیفا نے گزشتہ ماہ ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خواتین کو غیر مشروط طور پر اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت دے۔فیفا نے دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے خواتین سے متعلق مثبت فیصلہ نہیں کیا تو ایران کو فیفا سے باہر کردیا جائے گا۔واضح رہے کہ فیفا کی

جانب سے مذکورہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایک لڑکی نے اسٹیڈیم میں داخل ہونے کے لیے لڑکوں والا لباس زیب تن کیا تاہم ان کی شناخت ظاہر ہوگئی۔بعدازاں گرفتاری کے ڈر سے لڑکی نے خود سوز کرلی تھی۔ایران کی جانب سے پابندی اٹھائے جانے کے بعد خواتین کی بڑی تعداد نے ٹکٹ خریدنے کے لیے اسٹیڈیم کا رخ کیا۔سرکاری میڈیا کے مطابق 2022 کے ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچ ایران اور کمبوڈیا کی ٹیموں کے مابین آزادی اسٹیڈیم میں ہوگااس ضمن میں بتایا گیا حکومتی اعلان کے ایک گھنٹے بعد ہی ساری ٹکٹیں فروخت ہوگئیں۔مقامی فٹ بال جرنلسٹ روحا پوربخش نے بتایا کہ اب تک 3 ہزار 500 خواتین نے ٹکٹ خرید چکی ہیں۔انہوں نے اپنے تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین نہیں آتا یہ حقیقت میں بدل رہا ہے، ٹیلی ویڑن کو فٹ میچ دیکھ کر رپورٹنگ کی لیکن اب بذات خود اسٹیڈیم میں میچ دیکھوں گی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اسٹیڈیم میں خواتین کی علیحدہ نشستیں ہوں گی اور 150 خاتون پولیس اہلکار تعینات ہوں گی۔علاوہ ازیں 3 مارچ 2018 کو فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے سربراہ گیانی انفنٹینو نے کہا تھا کہ ایران نے انھیں یقین دلایا ہے کہ خواتین کو بہت جلد ملک میں ہونے والے مردوں کے فٹبال میچ اسٹیڈیم جا کر دیکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ایران میں سخت اسلامی قوانین کی پاداش میں متعدد سماجی کارکنوں سمیت خواتین کھلاڑیوں کو سزائیں مل چکی ہیں۔یکم اپریل 2017 میں ایران نے چین میں

منعقدہ ایک ٹورنامنٹ میں اسلامی قوانین کی خلاف ورزی پراپنے ملک کی بلیئرڈ ٹیم کی چند خاتون کھلاڑیوں پر ایک سال کی پابندی عائد کردی تھی۔ایران کی باؤلنگ، بلیئرڈ اور باکسنگ فیڈریشن نے خلاف ورزی کی نوعیت کو واضح نہیں کیا تھا تاہم ایک سالہ پابندی کا اعلان کردیا ہے۔ایرانی حکام کے مطابق چائنا اوپن بلئیئرڈ ٹورنامنٹ کے لیے بھیجی گئی خواتین پراسلامی قواعد کی خلاف ورزی کی پاداش میں ڈومیسٹک اور تمام بیرونی مقابلوں میں

شرکت کے لیے ایک سال کی پابندی ہوگی۔ایرانی خواتین اور لڑکیوں پر 1981 میں مردوں کے کھیلوں میں شرکت پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم دیگر ممالک کی خواتین کو اس طرح کے میچوں میں شرکت کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔غیرملکی میڈیاکے مطابق ایران میں کھیلوں کے میدانوں تک خواتین کی رسائی کے لیے مہم چلانے والے ایک گروپ کی جانب سے 2 لاکھ سے زائد افراد کی دستخط شدہ پٹیشن فیفا کو جمع کرادی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…