جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

کرونا کے پھیلائو میں تیزی، سینئر صحافی سلیم صافی نے اسد عمر کی کلاس لے لی ، کیسز اور اموات سے متعلق بھی ہوشربا انکشاف

datetime 24  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر صحافی سلیم صافی اپنے کالم ”کورونا اور سونامی سرکار” میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔کورونا سے متعلق این سی او سی کی کارکردگی سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ محترم اسد عمر مارکیٹنگ کے ماہر ہیں اور وہ بھی صرف اپنی ذات کی مارکیٹنگ کے۔ اول تو این سی او سی کی ذمہ داری، ایسے شخص کو دینا درست نہیں

تھا کہ جس کے پاس اہم وزارت ہو اور جو دن رات سیاست اور ٹی وی ٹاک شوز میں بھی مصروف ہو اور جس کی اصل توجہ کا مرکز سوشل میڈیا ہو۔چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک تھا اور ہے کہ جس کی کورونا سے متعلق پالیسی یہ ہے کہ اس کی کوئی پالیسی نہیں۔ سی این این کے فرید ذکریا نے کورونا کے دس سبق کے نام سے جو کتاب لکھی ہے ، اس میں انہوں نے ایک سبق یہ بیان کیا ہے کہ سیاستدانوں کو طبی ماہرین کو سننا چاہئے ۔اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ این سی او سی کا سربراہ کسی طبی شعبے کے ماہر کو بنایا جاتا لیکن اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر این سی او سی میں زیادہ سے زیادہ ڈاکٹروں کو نمائندگی ملنی چاہئے تھی اور ان کی رائے کو اہمیت دینی چاہئے تھی لیکن این سی او سی یا حکومت نے اس معاملے میں بھی ڈاکٹروں کی بات نہیں مانی۔ ڈاکٹرز لاک ڈائون کا کہتے رہے لیکن حکومت اسمارٹ لاک ڈائون کے ڈرامے کرتی رہی۔تازہ ترین لہر کی مثال لے لیجئے ۔ دسمبر کے آخر میں یہ کیسز آنے شروع ہوئے۔ جنوری کے

مہینے میں مجھے اسلام آباد کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے ہاں مریض پھر بڑھنے لگے۔یہ وہ وقت تھا کہ جب برطانیہ میں تیسری اور خطرناک لہر کی وجہ سے لاک ڈائون ہو گیا اور صاحب حیثیت پاکستانی یہاں آنے لگے۔ برطانیہ سے آنے والوں کی ہوائی اڈوں پر ٹیسٹنگ تو دور

کی بات اپنے گزشتہ کالم میں علی معین نواز ش نے تفصیل سے لکھا ہے کہ کس طرح برازیل سے آنے والے ایک پاکستانی ائیرپورٹ پر اپنے کورونا ٹیسٹ کا مطالبہ کرتے رہے لیکن وہاں پر موجود حکام نے انہیں بغیر ٹیسٹ اور قرنطینہ کے گھر جانے کا کہہ کر رخصت کر دیا ۔

دوسری طرف وزیر اعظم ہوں، وزرا ہوں، وزرائے اعلی ہو، گورنرز ہوں یا خود ٹائیگر فورس کے سربراہ، سب بغیر ماسک کے، سماجی فاصلے کے اصول کا مذاق اڑاتے نظر آتے رہے لیکن این سی او سی تماشہ دیکھتی رہی۔ اگر آرمی چیف مسلسل ماسک پہن سکتے ہیں تو وزیراعظم اور وزرا

جو قوم کے لئے رول ماڈل ہوتے ہیں، نے یہ تکلیف گوارا کیوں نہیں کی؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے بارے میں یہ دعوی جھوٹ ہے کہ وہ کم متاثر ہوا۔اس وقت عالمی انڈیکس میں کیسز اور اموات کے لحاظ سے پاکستان کا نمبر تیس ہے لیکن باقی ممالک کا ڈیٹا مستند ہے اور وہاں مناسب ٹیسٹنگ

ہوئی ہے جبکہ ہمارے ملک میں دس فی صد لوگ بھی ٹیسٹ نہیں کراتے۔ یوں ہمارے ملک میں متاثرین کی اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے جو این سی او سی بتارہا ہے اور اسی طرح کورونا سے مرنے والوں کی تعداد بھی کئی گنا زیادہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…