ہلاکوخان کی ماں کی وفات ہوئی تو یوشع پادری نے ہلاکوخان سے کہا “مسلمانوں کے بقول قبر میں فرشتے عربی میں سوال جواب کرتے ہیں جبکہ ملکہ خانم کو عربی نہیں آتی. آپ اپنے وزیر نصیرالدین طوسی کو ملکہ کے ساتھ درگور کر دیجئے تاکہ فرشتوں کے سوالات کے جواب دے سکے”۔ یوشع پادری یہ نقطہ بھول گیا کہ عربی زبان وہ خود بھی جانتا ہے وزیر کی چالاکی سے پھنس سکتا ہے۔ ہلاکوخان نے وزیر سے مرضی دریافت کی تو وہ ذرا بھی نہ گھبرایا اور بولا
“یوشع پادری بجا فرماتے ہیں لیکن آپ ایک ردوبدل کیجئے۔ایک دن آپ کو بھی مرنا ہے، مجھے اپنی قبر میں درگور کرنے کے لئے رکھ لیجئے اور یوشع کو ملکہ خانم کی قبر میں ڈال دیجئے” یہ سن کر یوشع پادری کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی. اس نے اپنے بچاؤ کے لئے بے پناہ زور مارا. دھاڑیں مار مار کے رویا اور رحم کی درخواست کی مگر ہلاکوخان نہ مانا اور اسے اپنی ماں کے ساتھ قبر میں اتار دیا تاکہ جب فرشتے عربی میں اس کی ماں سے سوالات کریں تو یوشع پادری جوابات دے سکے۔