منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

سلائی مشین کب اور کیسے ایجاد ہوئی؟

datetime 22  جولائی  2017 |

الیس ہووے امریکہ کے مشہور شہر مساچوسٹ کا ایک معمولی کاریگر تھا۔ وہ 1819 ء میں پیدا ہوا اور صرف 48 سال کی عمر میں 1867ء میں اس کا انتقال ہوگیا۔مگر اس نے دنیا کو ایک ایسی چیز دی جس نے کپڑے کی تیاری میں ایک انقلاب برپا کردیا۔یہ سلائی کی مشین تھی جو اس نے 1845ء میں میں ایجاد کی۔ الیس ہووے نے جو مشین بنائی اس کی سوئی میں دھاگہ ڈالنے کے لیئے ابتداء سوئی کی جڑ کی طرف چھید ہوتا تھا جیسا کہ عام طور پر ہاتھ کی سوئیوں میں ہوتا ہے ۔

ہزاروں برس سے انسان سوئی کی جڑ میں چھید کرتا آرہا تھا۔ اس لیئے الیس ہووے نے جب سلائی کی مشین تیار کی تو اس میں بھی عام رواج کے مطابق اس کی جڑ کی طرف چھید بنایا۔اس کی وجہ سے اس کی مشین ٹھیک کام نہیں کرتی تھی۔شروع میں وہ اپنی مشین سے صرف جوتا سی سکتا تھا ۔کپڑے کی سلائی اس مشین پر ممکن نہ تھی۔ الیس ہووے ایک عرصہ تک اسی اڈھیربن میں رہا مگر اس کی سمجھ میں اس کا کوئی حل نہیں آتا تھا آخر کار اس نے ایک خواب دیکھا۔ اس خواب نے اس کا مسئلہ حل کردیا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کسی وحشی قبیلہ کے آدمیوں نے اس کو پکڑ لیا ہے اور اس کو حکم دیا ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے اندر سلائی مشین بنا کر تیار کرے۔ ورنہ اس کو قتل کردیا جائے گا۔اس نے کوشش کی مگر مقررہ مدت میں وہ مشین تیار نہ کرسکا۔جب وقت پورا ہوگیا تو قبیلہ کے لوگ اسے مارنے کے لیئے دوڑ پڑے۔ ان کے ہاتھ میں برچھا تھا ۔ہووے نے غور سے دیکھا تو ہر برچھے کی نوک پر اک سوراخ تھا۔یہی دیکھتے ہوئے اس کی آنکھ کھل گئی۔ ہووے کو آغاز مل گیا۔ اس نے برچھے کی طرح اپنی سوئی میں بھی نوک کی طرف چھید بنایا اور اس میں دھاگہ ڈالا۔ اب مسئلہ حل تھا ۔دھاگے کا چھید اوپر ہونے کی وجہ سے جو مشین کام نہیں کر رہی تھی وہ نیچے کی طرف چھید بنانے کے بعد بخوبی کام کرنے لگی۔ ہووے کی مشکل یہ تھی کہ وہ رواجی ذہن سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتا تھا ۔وہ سمجھ رہا تھا کہ جو چیز ہزاروں سالوں سے چلی آرہی ہےوہی صحیح ہے۔

جب اس کے لاشعور نے اسے تصویر کا دوسرا رخ دکھایا اس وقت وہ معاملے کو سمجھا اور اس کو فورا حل کرلیا۔ جب آدمی اپنے آپ کو ہمہ تن کسی کام میں لگادے تو وہ اسی طرح کے رازوں کو پالیتا ہے جس طرح مذکورہ شخص نے پالیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…