جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

کاش! میں پرندہ ہوتا

datetime 26  مئی‬‮  2017 |

موسم خوشگوار تھا حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نظر ایک پرندہ پر پڑی جو ایک درخت پر بیٹھا میٹھی میٹھی آواز میں چہچہا رہا تھا۔ (یہ منظر دیکھ کر) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے، اے پرندہ! تو اچھا ہے، خدا کی قسم کاش! میں تیری طرح(کا ایک

پرندہ) ہوتا، درختوں پر بیٹھتا، پھل کھاتا اور اڑتا پھرتا، نہ کسی حساب کا ڈر ہوتا اور نہ عذاب کا۔ خدا کی قسم، کاش! میں سرِراہ ایک درخت ہوتا۔ اونٹ میرے پاس سے گزرتے اور مجھے اپنے منہ کا نوالہ بناتے، مجھے چباتے، کھاتے اور نگل جاتے، پھر مجھے مینگنیوں کی صورت میں نکالتے، میں کوئی بشر نہ ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…