اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

کچھ لوگوں کی زبانوں سے۔۔۔۔۔۔

datetime 11  مئی‬‮  2017 |

پہلی کہانی
زید نے حامد سے پوچھا : تم کہاں کام کرتے ہو ؟؟ حامد : فلاں دکان میں۔ ماہانہ کتنی تنخواہ دیتاہے؟ حامد:18000 روپے ، زید :18000 روپے بس، تمہاری زندگی کیسے کٹتی ہے اتنے پیسوں میں ؟؟ حامد ۔گہری سانس کھینچتے ہوئے ۔ بس یار کیا بتاوں۔ میٹنگ ختم ہوئی۔کچھ دنوں کے بعد حامد اب اپنے کام سے بیزار ہوگیا ، اور تنخواہ بڑھانے کی ڈیمانڈ کردی جسے منٹ سے پیشتر مالک نے رد کردیا۔

نوجوان نے جاب چھوڑ دی اور بے روزگار ہوگیا،،پہلے اس کے پاس کام تھا اب کام نہیں رہا۔ سیانے سچ کہتے ہیں “قلیل دائم خیر من کثیر منقطع” تھوڑا تھوڑا لیکن ہمیشہ ملنے والا مال اس مال سے بہتر ہوتا ہے جو چھپڑ پھاڑ کر ملے اور جتنی تیزی سے آئے اتنی تیزی سے ختم ہوجائے
دوسری کہانی
ایک سہیلی نے دوسری سہیلی سے پوچھا۔ بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں تمہارے شوہر نے تمہیں کیا تحفہ دیا ؟ سہیلی نے کہا کچھ بھی نہیں۔ اس نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ اچھی بات ہے؟ کیا اس کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں؟ لفظوں کا یہ زہریلا بم گراکر وہ سہیلی دوسری سہیلی کو اپنی فکر میں غلطاں و پیچاں چھوڑ کر چلتی بنی۔ تھوڑی دیر بعد ظہر کے وقت اس کاشوہر گھر آیا اور بیوی کا منہ لٹکا ہواپایا۔ پھر دونوں کا جھگڑا ہواایک دوسرے کو لعنت بھیجی مارپیٹ ہوئی شوہر نے اسے طلاق دے دی، جانتے ہیں پرابلم کی شروعات کہاں سے ہوئی؟ اس فضول جملے سےجو اس کی زیارت کرنے آئی سہیلی نے کہا تھا۔
تیسری کہانی
روایت ہے کہ ایک فکر و قلق سے آزاد باپ تھا کہ ایک کہنے والے نے اس کے کان میں نفرت کا منتر پھونکا کہ تمہارا بیٹا تمہاری بہت زیادہ زیارت کیوں نہیں کرتا کیا اسے تم سے دل کی گہرائیوں سے محبت نہیں ؟

باپ نے بیٹے کے لئے عذر تراشا اور کہا کہ اس کے کام کا بیک گراونڈ اور شیڈول بہت سخت ہے اسے بہت کم وقت ملتا ہے دوسرے آدمی نے کہا کہ ۔ تم کیسے مان سکتے ہو کہ اس کو کام کی وجہ سے آپ سے ملنے کا وقت نہیں ملتا ؟؟ یہ تو نہ ملنے کا ماڈرن بہانا ہے۔ اس گفتگو کے کچھ دنوں بعد باپ کے دل میں بیٹے کے تعلق سے پہلی جیسی صفائی نا رہی اور رضامندی کی جگہ نفرت و حقارت نے لے لی۔

بے شک کچھ لوگوں کی زبانوں سے شیطان بول جاتا ہے ہماری روز مرہ کی زندگی میں کچھ سوالات ہمیں بہت معصوم لگتے ہیں: تم نے یہ کیوں نہیں خریدا؟ تمہارے پاس یہ کیوں نہیں ہے؟ تم اس شخص کے ساتھ پوری زندگی کیسے چل سکتی ہو؟ تم اسے کیسے مان سکتے ہو؟

اس طرح کے بیشتر سوالات نادانی میں یا بلا مقصد ہم پوچھ بیٹھتے ہیں جبکہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہ سوالات سننے والے کے دل میں نفرت یا محبت کا کون سا بیج بورہے ہیں ۔ لوگوں کے گھروں میں اندھے بن کر جاو اور وہاں سے گونگا بن کر نکلو

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…