جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ریڈیو پاکستان پشاور کاملازم تیسری منزل پر پھنس گیا،جان بچانے کیلئے چھلانگ لگا دی ، سٹیشن ڈائریکٹر کا انکشاف

datetime 1  جون‬‮  2023 |

پشاور (این این آئی)سٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان پشاور محمد اعجاز خان نے ریڈیو پاکستان پشاور پر 9 اور 10 مئی کو ہونے والے حملوں کا احوال بتاتے ہوئے کہاہے کہ ریڈیو پاکستان پشاور کے عملے میں سے ایک ملازم تیسری منزل پر پھنس گیا، جس نے جان بچانے کے لیے تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی۔

اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان پشاور محمد اعجاز خان کے مطابق 9 مئی کی شام ایک سیاسی پارٹی کے ورکرز نے ریڈیو پشاور کی دیوار کو توڑ دیا۔انہوں نے بتایا کہ شر پسندوں نے چاغی پہاڑ کے ماڈل کو راکھ کر دیا، یہ ماڈل اسلامی دنیا کا پہلا ایٹمی ملک ہونے کی علامت تھا۔اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان پشاور نے بتایا کہ شر پسندوں نے ریڈیو پاکستان پشاور کے استقبالیہ بلاک کو بھی آگ لگا دی۔محمد اعجاز خان نے بتایا کہ شر پسند سیکیورٹی اہلکاروں کے ہتھیار بھی لے گئے، انہوں نے آڈیٹوریم کو بھی نہیں بخشا۔

انہوں نے کہاکہ حملہ آوروں نے 350 سیٹوں والے آڈیٹوریم کو بھی جلا کر راکھ کر دیا۔اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان پشاور کے مطابق شر پسندوں کی جانب سے ریڈیو پاکستان پشاور کی 6 منزلہ بلڈنگ کو بھی جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔اعجاز خان کے مطابق مالی نقصان کا ازالہ تو ہو جائے گا، نادر نسخوں کا نقصان پورا نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے بتایا کہ اندوہناک حملوں کے باوجود 11 مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور نے ٹرانسمیشن کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…