اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتےہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء تارڑنےکہا کہ وزیراعظم اور کابینہ کا کوئی رکن توہین عدالت کے پاس سے بھی نہیں گزرا ہے، پارلیمان وسیع تر مشاورت کے بعد اپنے فیصلے خود کرتا ہے، سپریم کورٹ کا پروسیجر تبدیل کرنے کی قانون سازی پارلیمنٹ میں اکثریت رائے سے ہوئی، آئین پارلیمنٹ کو سپریم ادارہ مانتا ہے۔
پارلیمنٹ کا قانون سازی کا اختیار چیلنج کر کے اس کا استحقاق مجروح کیا جارہاہے، ایک قانون بننے سے پہلے ہی اس کا صفایاکردیا گیا، ارکان پارلیمنٹ سمجھتے ہیں انہیں اختیار کے استعمال سے روکا جارہا ہے، پارلیمنٹ متحد اور یکسو ہو کر آئین کی بالادستی کیلئے کھڑی ہے، اس میں وزیراعظم اور کابینہ کا کوئی کردار یاقصور نہیں ہے، عدلیہ توہین پر کسی پارلیمنٹرین کو اندر کرسکتی ہے تو پارلیمنٹ کے پاس بھی استحقاق مجروح ہونے کی صورت نوٹس دینے کا اختیار ہے۔ عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن کو 21ارب روپے کی سپلمنٹری گرانٹ دیدیتے ہیں لیکن پارلیمان بعد میں منظوری نہیں دیتی تو اس کی بھرپائی کون کرے گا، آرٹیکل 63اے کی غلط تشریح سے پی ٹی آئی کو فائدہ ہوا، پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ سے ہم نے نہیں نکالا ہے، وکلاء کی تمام نمائندہ تنظیموں نے ان بزرگوں کی گول میز کانفرنس کی مذمت کی ہے جنہیں سینیٹ کے ٹکٹوں کا لالچ دیا گیا ہے۔ عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ عید کی چھٹیوں میں عمران خان کی گرفتاری کا کوئی منصوبہ نہیں ہے،عمران خان کو اپنی گرفتاری کا فوبیا ہوگیا ہے۔
چیئرمین نادرا سے استعفیٰ لینے کی بات چیت چل رہی ہے وزیرداخلہ ہی اس کی تصدیق کرسکتے ہیں، چیئرمین نادرا کے استعفے کا معاملہ اگلے چوبیس گھنٹے میں سامنے آجائے گا۔ عطاء تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الگ الگ الیکشن نہیں ہوئے، پنجاب میں پہلے الیکشن ہوجاتے ہیں تو اس کا اثر باقی صوبوں پر پڑے گا، پنجاب میں جس کی حکومت بنے گی وہی چھوٹے صوبوں میں حکومت بنالے گی، بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد کس قانون کے تحت نگراں حکومتیں قائم رہی تھیں، آئین میں ایسی کوئی شق نہیں جس کے تحت نگراں حکومتیں انتخابات سے پہلے ختم ہوسکیں۔