ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

سابق اہلیہ کا آدھی جائیداد کا مطالبہ، کروڑ پتی فٹبالر ’غریب‘ نکلا

datetime 15  اپریل‬‮  2023 |

مراکش ( این این آئی) مراکش کے مشہور فٹبالر اشرف حکیمی کی سابق اہلیہ حبہ ابوک کی طلاق کے بعد شوہر کی ملکیت کا آدھا حصہ پالینے کا خواب پورا نہ ہوسکا۔عرب میڈیا کے مطابق اشرف حکیمی کی سابق اہلیہ حبہ ابوک نے عدالت میں طلاق کے لیے دائر کی گئی درخواست میں شوہر کی ملکیت سے نصف حصے کا مطالبہ کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق حبہ ابوک کو بتایا گیا کہ اشرف حکیمی کسی بھی چیز کے مالک نہیں اور ان کے نام پر کوئی چیز ہے ہی نہیں، فٹبالر کے پاس جو کچھ ہے وہ ان کی والدہ کے نام ہے۔حبہ ابوک کو یہ بھی بتایا گیا کہ یہاں تک کہ اشرف حکیمی کی تنخواہ کی بینیفشری بھی ان کی والدہ ہیں۔رپورٹس کے مطابق اشرف حکیمی کی ہفتہ وار آمدنی 2لاکھ 15ہزار ڈالرز کے قریب ہے اور ان کا شمار سب سے زیادہ کمانے والے 6 افریقی کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اشرف حکیمی کو اس وقت 24 سالہ خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات میں ابتدائی پولیس تحقیقات کا سامنا ہے۔حبہ ابوک کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ سامنے آنے سے قبل ہی اشرف حکیمی سے علیحدگی ہو چکی تھی اور میں ہمیشہ متاثرہ خواتین کا ساتھ دوں گی۔دوسری جانب اشرف حکیمی کئی بار اپنی والدہ کے ساتھ والہانہ محبت اور کا اظہار کرچکے ہیں۔اشرف حکیمی گرائونڈز، سوشل میڈیا اور انٹرویوز میں اپنے والدین پر فخر کا اظہار بھی کرچکے ہیں۔واضح رہے کہ اشرف حکیمی اور حبہ ابوک نے دو سالہ دوستی کے بعد 2020ء میں شادی کی تھی اور وہ فٹبالر سے 12سال بڑی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…