بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مولانا طارق جمیل کو خاتون کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے تھا،مولانا طارق جمیل کے بیٹے کی ڈاکٹر نبیہا علی پر کڑی تنقید

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مولانا طارق جمیل کے بیٹے یوسف جمیل نے حالیہ تنازع پر خاموشی توڑتے ہوئے والد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر ردِعمل دے دیا۔اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مولانا طارق جمیل نے ڈاکٹر نبیہا علی نامی خاتون کا نکاح پڑھایا، جس کے بعد ان پر غیر ضروری تنقید کی جا رہی ہے۔یوسف جمیل نے وضاحت کی کہ مولانا طارق جمیل نہ تو اس خاتون کو ذاتی طور پر جانتے تھے اور نہ ہی ان سے پہلے کبھی ملاقات ہوئی تھی۔ ایک دوست کی درخواست پر انہوں نے نکاح پڑھانے پر رضامندی ظاہر کی، کیونکہ وہ اپنی زندگی میں ہزاروں نکاح پڑھا چکے ہیں اور آج تک کسی کی درخواست رد نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا طارق جمیل کی شخصیت اور ان کی دینی خدمات سب کے سامنے ہیں۔

انہوں نے پوری زندگی دین کے پیغام کو پھیلانے اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کی ہے۔ “ایسا شخص جو اپنی پوری زندگی دین کے لیے وقف کر دے، اس سے اگر کوئی معمولی لغزش ہو بھی جائے تو اس پر اتنی شدت سے ردعمل مناسب نہیں۔”یوسف جمیل نے بتایا کہ مولانا طارق جمیل اب عمر اور صحت کے مسائل کے باعث بہت کم نکاح پڑھاتے ہیں، تاہم یہ سلسلہ مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔ “برسوں پرانا معمول اچانک ترک کرنا آسان نہیں، اور لوگ بھی فخر محسوس کرتے ہیں کہ ان کا نکاح مولانا پڑھائیں۔”انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ ہر بار پہلے سے معلوم کیا جائے کہ کس کا نکاح پڑھانا ہے اور کس کا نہیں، خاص طور پر جب بات کسی عوامی شخصیت کی ہو۔یوسف جمیل نے اعتراف کیا کہ شرعی اعتبار سے مولانا کو نکاح کے موقع پر خاتون کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے تھا، تاہم اس معاملے کو اس کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

“مولانا 72 سال کے بزرگ ہیں، نہ وہ نوجوان ہیں اور نہ ہی خواہشات کی عمر میں۔ جن خواتین کے نکاح وہ پڑھاتے ہیں، وہ ان کی بیٹیوں جیسی ہوتی ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر نبیہا نے نکاح کے دوران حد سے تجاوز کیا، انہیں یہ احساس ہونا چاہیے تھا کہ وہ کس کے گھر میں موجود ہیں۔ “ہمارے گھر کے تقدس کا خیال نہیں رکھا گیا، ویڈیوز بنائی گئیں جن میں موسیقی شامل تھی۔ خوشی منانا غلط نہیں، مگر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ موقع اور جگہ کیا ہے۔”یوسف جمیل نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس واقعے کے بعد مولانا طارق جمیل کو تنقید اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ “لوگ ویڈیوز اور پیغامات بھیج رہے ہیں، حالانکہ مولانا کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ تقریب اس انداز میں سوشل میڈیا پر پیش کی جائے گی۔”انہوں نے آخر میں کہا کہ ایک واقعے کی بنیاد پر کسی شخص کی پوری زندگی کی خدمات کو فراموش کرنا انصاف نہیں۔ “ڈاکٹر نبیہا نے اس موقع کو سنجیدہ مذہبی تقریب کے بجائے سوشل میڈیا سرگرمی بنا دیا۔ مولانا کی سادگی اور نرم مزاجی کا غلط فائدہ اٹھایا گیا۔ اگر انہیں پہلے سے علم ہوتا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے تو وہ ہرگز اجازت نہ دیتے کہ میرے گھر میں یہ سب کیا جائے۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…