اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

اسلام آبادمیں خودکش دھماکا، 12 افراد شہید، متعدد زخمی

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے جی الیون میں کچہری کے باہر پولیس کی گاڑی پر خْودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوگئے ،زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔ سر کاری ٹی وی کے مطابق اسلام آباد جی الیون کچہری کے باہر بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج نے خودکش دھماکا کیا، وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ سخت سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کچہری میں داخل نہیں ہوسکے، موقع ملنے پر بمبار نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو اْڑا دیا۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکا کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ آئے۔پمز ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ اب تک کی رپورٹ کے مطابق 12 افراد کی لاشیں اور 20 سے 22 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 27 زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

سر کاری ٹی وی کے مطابق مبینہ خودکش بمبار کا سر سڑک پر پڑا ہوا مل گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق خودکش دھماکا کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ بھی آئے، پارکنگ ایریا میں دھماکے سے آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نریندر مودی دہلی میں فالس فلیگ کروا رہا ہے اور ادھر اپنی پراکسیز افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ذریعے پہلے وانا کیڈٹ کالج اور اسلام آباد میں دہشت گردی کروائی۔قبل ازیں دھماکے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے میں وکلا بھی زخمی ہوئے ہیں۔

کچہری کے باہر دھماکے کے بعد عمارت خالی کرا لی گئی، وکلا، ججز اور سائلین کو کچہری سے نکال دیا گیا، جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی حصے کی طرف شہریوں اور وکلا کو نکالا گیا، ججز کو بھی روانہ کیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق دھماکا کچہری کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں ہوا ہے، دارالحکومت میں دھماکے کی آواز دور تک سنی گئی، اور دھماکے کے باعث لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا تھا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اسلام آباد جی الیون کے علاقے میں خودکش بمبار کے حملے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے، انہوں نے ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور زخمیوں کے بہترین علاج معالجے کے لیے ہدایات جاری کیں۔وزیر داخلہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ خود کش حملے میں اب تک 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کا علاج کیا جارہا ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ فول پْروف سیکیورٹی کی بدولت خودکش بمبار کچہری میں داخل نہیں ہوسکا، خودکش حملہ آوروں کے افغانستان میں کمیونی کیشن کی معلومات تھیں، ہمیں اپنے ملک کو دیکھنا ہے سب سے پہلے پاکستان ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ سخت سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کچہری میں داخل نہیں ہوسکے، موقع ملنے پر بمبار نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو اْڑایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…