جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی عدالت میں پیشی کے دوران پھٹ پڑی

datetime 16  مئی‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی) منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی عدالت میں پیشی کے دوران پھٹ پڑی اور اپنے خلاف درج مقدمات، مبینہ تشدد، جبری حراست اور بعض اہم شخصیات کے نام لینے کے لیے دبائو ڈالے جانے سے متعلق سنسنی خیز انکشافات کر دیے۔

دوسری جانب پولیس نے عدالت میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے اور میڈیا نمائندوں کو ملزمہ سے گفتگو کرنے سے روک دیا۔ہفتہ کومنشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں دورانِ سماعت ملزمہ نے عدالت کے روبرو دعویٰ کیا کہ اسے گزشتہ 20 روز سے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، اس پر تشدد کیا گیا اور جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔عدالت میں بیان دیتے ہوئے انمول پنکی نے کہا کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے، مجھے مارا گیا، مجھ پر بوریوں بھر کر منشیات ڈالی گئی اور زبردستی لوگوں کے نام کہلوائے جا رہے ہیں۔ ملزمہ کے مطابق 6 افراد اسے گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے اور 15 دن تک اپنے پاس رکھنے کے بعد پولیس کے حوالے کیا گیا۔سماعت کے دوران جج نے ملزمہ کو پرسکون رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ آرام سے بیٹھ جائیں، پانی پئیں، یہ سٹی کورٹ ہے، یہاں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرے گا۔ عدالت نے ملزمہ سے اس کا نام اور طبیعت سے متعلق استفسار بھی کیا۔انمول پنکی نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس پر 20 سے 25 مقدمات ڈالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ سب کچھ قبول کرو، ورنہ تمہاری فیملی کو بھی اٹھا لیا جائے گا۔

اس نے الزام عائد کیا کہ بعض مخصوص افراد، جن میں بنی گالہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا نام بھی شامل ہے، ان کے نام لینے کے لیے دبا ئوڈالا جا رہا ہے۔ملزمہ نے کہا کہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے نام ہم بتا رہے ہیں، وہی نام لو۔ اس نے مزید دعوی کیا کہ جس گھر سے اس کی گرفتاری ظاہر کی گئی، وہ اس کا گھر ہی نہیں تھا۔عدالت نے واضح کیا کہ اس وقت کوئی اقبالی بیان ریکارڈ نہیں کیا جا رہا، جبکہ تفتیشی افسر سے پرانے عدالتی احکامات طلب کرتے ہوئے سوال کیا گیا کہ اب تک ملزمہ سے کیا تفتیش کی گئی ہے۔بغدادی تھانے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کے خلاف مزید 11 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور اس کی نشاندہی پر منشیات بھی برآمد کی گئی۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کافی عرصے سے مطلوب تھی اور اس کے خلاف مختلف کیسز میں تفتیش جاری ہے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ انمول پنکی کو عدالت منتقل کرنے کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

ملزمہ کو بغدادی تھانے سے 2 قیدی وینز اور 9 پولیس موبائلوں پر مشتمل بھاری نفری کے حصار میں عدالت لایا گیا۔ عدالت کے اطراف بھی سخت سیکیورٹی تعینات رہی اور کسی غیر متعلقہ شخص کو قریب آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔پولیس حکام نے میڈیا نمائندوں کو بھی ملزمہ سے بات کرنے سے روک دیا، جبکہ پیشی کے دوران ملزمہ کا چہرہ مکمل طور پر ڈھانپا گیا تھا اور اسے عبایہ پہنا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔یاد رہے کہ انمول عرف پنکی پر بین الصوبائی سطح پر منشیات اسمگلنگ اور فروخت کے منظم نیٹ ورک کو چلانے کا الزام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…