جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

پنشن کے لیے بینکوں کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں، وزیراعظم نے نئی سہولت فراہم کردی

datetime 20  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوذ ڈ یسک) وزیراعظم شہباز شریف نے پنشنرز کی سہولت کے لیے ’پروف آف لائف سرٹیفکیٹ‘ کے جدید نظام کا باقاعدہ افتتاح کردیا،

جس کے تحت بائیومیٹرک اور چہرے کی شناخت جیسی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پنشنرز کے لیے متعارف کرایا جانے والا نیا نظام ایک اہم سہولت ہے، جبکہ بائیومیٹرک اور فیشل ویری فکیشن کا جدید طریقہ بزرگ شہریوں کی آسانی اور خدمت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

شہباز شریف نے اس منصوبے کی تکمیل پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، چیئرمین نادرا اور سیکریٹری خزانہ سمیت دیگر متعلقہ حکام کو مبارکباد پیش کی۔ وزیراعظم کے مطابق نئے نظام کے نفاذ سے پنشنرز کو تصدیق کے لیے بار بار بینک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، جس سے بالخصوص بزرگ اور معذور افراد کو نمایاں سہولت ملے گی۔

 پنشن کے نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنشن کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل سہولیات کے ذریعے پنشن کے نظام میں شفافیت اور کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جاسکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ نادرا کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا ہے، جبکہ راست نظام کے ذریعے پنشن کی ادائیگی میں تیزی اور شفافیت لانے میں مدد ملے گی۔

وزیر خزانہ کے مطابق پنشنرز کو شناخت کی تصدیق کی یہ سہولت بغیر کسی فیس کے فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چہرے کے ذریعے تصدیق کا نظام پنشنرز کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا، جسے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے عملی شکل دے دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…