اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

عروب کو گھسیٹنا بند کردیں،جذباتی ویڈیو پیغام

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک ) بیٹنگ ایپس کے پروموشن کیس میں مقدمات کا سامنا کرنے والے ڈکی بھائی کے بھائی ضیا ذوالفقار نے کہا ہے کہ ان کی بھابھی عروب اور والدہ کو بلاوجہ اس معاملے میں گھسیٹا جا رہا ہے، جب کہ وہ پہلے ہی سخت ذہنی اذیت سے گزر رہی ہیں۔
اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ضیا ذوالفقار نے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں جن میں کہا گیا کہ سعد (ڈکی بھائی) کو سات سال قید اور ڈیڑھ کروڑ روپے جرمانے کی سزا ہونے والی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ جیل میں سعد سے ملاقات کے لیے گئے تو وہ دو دن سے مسلسل رو رہا تھا اور بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ “یہ سب کیا ہو رہا ہے، کیس تو اتنا بڑا نہیں تھا۔” ضیا کے مطابق سعد کو گرفتار ہوئے تین ماہ ہو چکے ہیں، جن میں سے 22 دن جسمانی ریمانڈ پر اور باقی مدت جیل میں گزری۔
ضیا ذوالفقار نے کہا کہ اس مقدمے نے ان کے پورے خاندان، خاص طور پر خواتین پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی باتوں میں کچھ حقائق ہیں مگر زیادہ تر غلط بیانی پر مبنی ہیں۔
ان کے مطابق انہوں نے این سی سی آئی اے کے خلاف جو قانونی کارروائی کی، وہ صرف ذاتی نہیں بلکہ ان تمام افراد کے لیے ہے جو سرکاری اہلکاروں کی بلیک میلنگ کا شکار بن چکے ہیں۔ جیل میں انہیں کئی قیدی ملے جو اسی طرح کے ظلم کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی والدہ اور بھابھی اکثر سوچتی ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں جو قانونی مدد حاصل کر سکتے ہیں، لیکن بہت سے قیدی ایسے ہیں جو وکیل تک افورڈ نہیں کر پاتے۔
ضیا نے وضاحت کی کہ این سی سی آئی اے بطور ادارہ کرپٹ نہیں، تاہم ان کے سامنا کچھ ایسے افسران سے ہوا جنہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ انہوں نے ایف آئی اے اینٹی کرپشن ونگ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مکمل تعاون کیا۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شہری کو کوئی سرکاری اہلکار بلیک میل کرے تو وہ ثبوتوں کے ساتھ اینٹی کرپشن سرکل سے رابطہ کرے، انہیں ضرور انصاف ملے گا۔ ان کے بقول، “ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل کی بدولت ہمارا نظام پر اعتماد دوبارہ بحال ہوا ہے۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…