منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

عروب کو گھسیٹنا بند کردیں،جذباتی ویڈیو پیغام

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک ) بیٹنگ ایپس کے پروموشن کیس میں مقدمات کا سامنا کرنے والے ڈکی بھائی کے بھائی ضیا ذوالفقار نے کہا ہے کہ ان کی بھابھی عروب اور والدہ کو بلاوجہ اس معاملے میں گھسیٹا جا رہا ہے، جب کہ وہ پہلے ہی سخت ذہنی اذیت سے گزر رہی ہیں۔
اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ضیا ذوالفقار نے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں جن میں کہا گیا کہ سعد (ڈکی بھائی) کو سات سال قید اور ڈیڑھ کروڑ روپے جرمانے کی سزا ہونے والی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ جیل میں سعد سے ملاقات کے لیے گئے تو وہ دو دن سے مسلسل رو رہا تھا اور بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ “یہ سب کیا ہو رہا ہے، کیس تو اتنا بڑا نہیں تھا۔” ضیا کے مطابق سعد کو گرفتار ہوئے تین ماہ ہو چکے ہیں، جن میں سے 22 دن جسمانی ریمانڈ پر اور باقی مدت جیل میں گزری۔
ضیا ذوالفقار نے کہا کہ اس مقدمے نے ان کے پورے خاندان، خاص طور پر خواتین پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی باتوں میں کچھ حقائق ہیں مگر زیادہ تر غلط بیانی پر مبنی ہیں۔
ان کے مطابق انہوں نے این سی سی آئی اے کے خلاف جو قانونی کارروائی کی، وہ صرف ذاتی نہیں بلکہ ان تمام افراد کے لیے ہے جو سرکاری اہلکاروں کی بلیک میلنگ کا شکار بن چکے ہیں۔ جیل میں انہیں کئی قیدی ملے جو اسی طرح کے ظلم کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی والدہ اور بھابھی اکثر سوچتی ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں جو قانونی مدد حاصل کر سکتے ہیں، لیکن بہت سے قیدی ایسے ہیں جو وکیل تک افورڈ نہیں کر پاتے۔
ضیا نے وضاحت کی کہ این سی سی آئی اے بطور ادارہ کرپٹ نہیں، تاہم ان کے سامنا کچھ ایسے افسران سے ہوا جنہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ انہوں نے ایف آئی اے اینٹی کرپشن ونگ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مکمل تعاون کیا۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شہری کو کوئی سرکاری اہلکار بلیک میل کرے تو وہ ثبوتوں کے ساتھ اینٹی کرپشن سرکل سے رابطہ کرے، انہیں ضرور انصاف ملے گا۔ ان کے بقول، “ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل کی بدولت ہمارا نظام پر اعتماد دوبارہ بحال ہوا ہے۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…