ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

عدالت نے مشکل وقت میں بہتر فیصلہ دیا اور نظریہ ضرورت نہیں بنی، شیخ رشید

datetime 5  اپریل‬‮  2023 |

راولپنڈی(این این آئی)عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے الیکشن التوا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے مشکل وقت میں بہتر فیصلہ دیا اور نظریہ ضرورت نہیں بنی۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں

سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اندر کسی نے نہیں کہا کہ ہم بائیکاٹ کرنا چاہتے ہیں، سب دلائل دینا چاہتے تھے، 85 رکنی کابینہ کا جمعہ بازار سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد نہیں کرسکتا، شہباز حکومت نااہلی یا انارکی میں سے ایک کیلئے تیار ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ یہ سو پیاز بھی کھائیں گے سو لتر بھی کھائیں گے اور عدلیہ کا فیصلہ بھی مانیں گے، عدلیہ خود آئین کے تابع ہے، ملک کے تمام ادارے عدلیہ کے تابع ہیں، عوام کا نام ریاست ہے، عدلیہ کا فیصلہ نہ مانا تو گلی کوچے میں بغاوت ہوگی۔ انہوںن یکہاکہ شہباز شریف سوچ لے کہ عدلیہ کا فیصلہ ماننا ہے یا توہین عدالت میں نااہل ہوکر رائیونڈ جانا ہے۔شیخ رشید احمد نے کہاکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے جنگجو فورس نہیں چاہیے، رینجرز، ایف سی اور ایکس سروس مین ہی کافی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عدلیہ کے بھگوڑے نواز شریف کی دردناک اور مایوس کن پریس کانفرنس خود اس کا منہ چڑا رہی تھی۔سابق وزیر داخلہ نے کہاکہ 3 ججز پر ریفرنس لانے، ایمرجنسی لگانے یا مارشل لا کی باتیں کرنے کے ڈرانے خواب دیکھنا چھوڑ دیں، ہفتے سے سعودی عرب کے سرکاری مہمان بننے کی بھیک مانگ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…