لاہور( این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ (آج) بدھ عشاء کے بعد سپریم کورٹ سے اظہار یکجہتی کریں گے ،مجھے شک ہے کہ حکمران سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کریںگے، سپریم کورٹ کے پاس کوئی فوج نہیں ہے ،عوام ہی اس کی فوج ہے اس لئے عوام نے اس کے ساتھ کھڑے ہونا ہے ، حکمران ٹولے کی کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح پی ٹی آئی کو کرش کیا جائے
اور انتخابات اکتوبر تک چلے جائیں ، اگر ان کے پاس ملک کو دلدل سے نکالنے کا کوئی روڈ میپ ہے تو میں اکتوبر تک انتخابات کا انتظار کرنے کیلئے تیار ہوں ،لندن میں پلان بنا کہ لیول پلینگ فیلڈ کیا ہونی ہے ، منصوبہ تھا کہ عمران خان کو راستے سے ہٹایا جائے گا ، پی ٹی آئی کو کمزور کیا جائے گا ، ہمیں کرش کیا جائے گا اور اکتوبر تک نواز شریف کیلئے سب کچھ تیار ہو جائے گا اورپھر انتخابات کرائے جائیں گے ، لندن پلان میں پاکستان کے لئے کچھ نہیں ہے ۔ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس طرح کے دن پاکستان کی تاریخ میں کم ہی آئے ہیں ،یہ ایک ایسا دن ہے جب ساری قوم کو خوشیاں منانی چاہیے ،حقیقی آزادی کا راستہ آتا ہی قانون کی حکمرانی سے ہے ۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بہت بڑا فیصلہ آیا ہے ،ملک کے قانون کی بنیاد ہی آئین پر ہے ، 1973ء کا آئین متفقہ دستاویز ہے جس میں سب نے اتفاق کیا تھا جب اسمبلیاں تحلیل ہوں گی تو نوے روز میں انتخابات ہوں گے۔ جب ہم اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کر رہے تھے تو مجھے تب بھی کہا گیا کہ انہوں نے انتخابات نہیں کرنے یہ اس میں تاخیر کریں گے اور میں پوچھتا تھا یہ کیوں تاخیر کریں گے ۔ مجھے یہ کہا گیا کہ پاکستان میں بہت کچھ ہو سکتا ہے ، اسمبلیوں کی تحلیل بہت بڑا چیلنج تھا ، میرے کئی لوگ اس فیصلے سے خوش نہیں تھے ،پارلیمنٹرینز خوش نہیں تھے،سینئر لوگوں نے کہا کہ آپ نے جو فیصلہ کیا ہے انہوں نے انتخابات نہیں کرانے ۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنی عدالتوں پر اعتماد رکھا اور اسمبلیاں تحلیل کیں ۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو تقسیم کرنے میں شریف خاندان کا بہت بڑاہاتھ ہے ، یہ ان کی تاریخ ہے یہ کبھی آزاد عدلیہ کو قبول نہیں کرتے ، انہیں وہ عدلیہ چاہیے جو ان کے لئے فیصلے کرے ان کی چوریاں بچائے ، یہ ماضی میں بھی عدلیہ کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں اور آج بھی چلا رہے ہیں ، بلیک میلنگ ان کی تاریخ ہے ، ہمیں یقین تھا کہ یہ عدلیہ پر دبائو ڈالیں گے بنچ کو تقسیم کریں گے ،
اس کے باوجود پانچ ججز سب نے کہا کہ نوے روز میں انتخابات ہونے چاہئیں، سپریم کورٹ کا پاکستان کے آئین اورقانون کی حکمرانی کی جیت ہے ۔میں آج بھی سوال کرتا ہوں ان کے پاس کوئی روڈ میپہے ، آج بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ حکومت کی طرف سے فیصلہ کو نہیں مانا جائے گا ،
یہ بھی نئی چیز ہے کہ حکومت کہہ رہی ہے ہم سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانیں گے، سیاسی جماعتوں کے سربراہ عدلیہ کے خلاف بیانات دے رہے ہیں،ایک طرف ہمارے اوپر الزامات لگائے جاتے ہیں ہم اداروں کے خلاف ہیں، حکومتی ٹی وی پر ججز اور ان کی فیملیوں پر حملے کئے جارہے ہیںِایک ادارے کے خلاف ٹوئٹ پر تو لوگوں کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے اور دوسرے ادارے پر کھل کر حملے کر رہے ہیں
انہیں اس کی کھلی اجازت ہے ، سپریم کورٹ کے پاس کوئی فوج نہیں اس کے فیصلے کی قوم حفاظت کرتی ہے ،ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں ،ملک کو حقیقی آزادی کس نے دینی ہے ، عدلیہ نے ہمارے بنیادی حقوق کا تحفظ کر کے ہمیں آزاد کرنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یہاں آج تک طاقتور کو انصاف کا نظام قانون کے نیچے نہیں لا سکا،یہاں کارٹلز بنے ہوئے ہیں جو لوگوں کی جائیدادوں پر قبضے کر کے اربوں روپے بنا لیتے ہیں ، انصاف اورقانون کی حکمرانی کی جدوجہد پوری قوم کو کرنی ہے،آج کا فیصلہ قوم کے لئے ہے کسی پارٹی کے لئے نہیں ، اللہ کرے ملک میں صاف اور شفاف انتخابات ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی پارٹیاں خوفزدہ ہیں کہ وہ ہار جائیں گی
اور وہ خوف کی وجہ سے آئین کو توڑنے کے لئے تیار ہیں،سپریم کورٹ اور ججز کو دھمکیاں دی گئیں، ججز کی فیملیوں کو بلیک میل کر رہے ہیں ڈرا رہے ہیں ، میں سوچ سکتا ہوں یہ کس طرح کا دبائو ڈالتے ہیں، انہوں نے میرے اوپر ایسا کیا ہے ،یہ سیاستدان نہیں مافیاز ہیں،انہوںنے میری ذات کو چھوڑا نہ گھر کی خواتین کو چھوڑا ، انہوں نے چھبیس گھنٹے تک میرے گھر پر حملہ کیا ۔
انہوں نے کہا کہ لندن میں پلان بنا کہ لیول پلینگ فیلڈ کیا ہونی ہے ، منصوبہ تھا کہ عمران خان کو راستے سے ہٹایا جائے گا ، پی ٹی آئی کو کمزور کیا جائے گا ، ہمیں کرش کیا جائے گا اور اکتوبر تک نواز شریف کے لئے سب کچھ تیار ہو جائے گا اورپھر انتخابات کرائے جائیں گے ، لندن پلان میں ملک کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے اس لئے اسٹیبلشمنٹ سے کہا ہے کہ
اگر ملک کے لئے روڈ میپ ہے جو ملک کو دلدل سے نکال سکے تو بتائیں کوئی راستہ ہے تو مجھے بتا دیں میں آپ کے ساتھ اکتوبر تک انتظار کروں گا۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ ہے کہ جو گروتھ 6فیصد تھی وہ آج 0.4فیصد پر پہنچ گئی ہے ،مہنگائی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور یہ 36فیصد ہو گئی ہے ، کسان پسا ہوا ہے ، زراعت میں جو پیداوار ساڑھے چار فیصد پر گروتھ کر رہی تھی آج اس کے حالات دیکھیں ،
لوگ آٹے کے لئے مر رہے ہیں ، اکتوبر میں کیسے ٹھیک ہو جائے گا ، اکتوبر میں کیسے پیسے آ جا ئیں گے جب ملک کا دیوالیہ نکل گیا ہے ، انڈسٹری کی گروتھ نہیں ہے تو قرضے واپس کیسے کریں گے ،باہر کے لوگ قرضہ دینے کے لئے تیار نہیںکیونکہ ڈیفالٹ رسک 100فیصد پر پہنچ گئی ہے ، اکتوبر تک کس چیز کا انتظار کرنا چاہتے ہیں اس میں پاکستان کاکیا فائدہ ہے ،
صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو اتنا کمزور کر دیں گے کہ 140میں کسی نہ کسی کیس میں تو عمران خان کو جیل میں ڈالیں گے ،یہ منصوبہ بھی تھا کہ مجھے بالکل ہی راستہ سے ہٹا دیں جس میں اللہ نے ایک بار بچایا ہے ۔انہو نے کہا کہ ملک کا فائدہ صاف اور شفاف انتخابات ہیں اور دوسرا کوئی راستہ نہیں ۔ہمارا سارا وقت عدالتوں میں گزرتا ہے یہ بھی لندن پلان کا حصہ ہے ، ہم عدالتوں میں پیشیوں کی وجہ سے کوئی کام نہیں کر سکتے ، یہ چاہتے ہیں ہم کمزور ہو جائیں یہ پھر الیکشن کرائیں ،
لیکن ہم اکتوبر میں بھی کمزور نہیں ہوںگے بلکہ حکومتی پارٹی مزید کمزور ہو گی ، قوم میں ان کے خلاف نفرتیں بڑھتی جائیں گی ، یہ عوام میں نکلیں گے تو انہیں پتہ چلے گاعوام ان سے کتنی نفرت کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ساری قوم کو کہتا ہوں ہمارے لئے اللہ نے انتخابات کی طرف جانے کا ایک موقع دیا ہے ، یہ آرام سے ہو جائے گا ایسا نہیں ہے ، یہ رکاوٹیں ڈالیں گے اس لئے چاہتا ہوں
آج بدھ عشاء کے بعد آئین اور سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہونا ہے ، لوگوں نے سپریم کورٹ کو پیغام دینا ہے ہم آپ کے ساتھ کھڑی ہیں آئین و قانون کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ وکلاء برادی نے کھڑے ہونا ہے ،آئی ایل ایف نے بڑی محنت کی ہے آپ کو آگے بھی جدوجہد کرنی ہے ، مجھے شک ہے انہوں نے تسلیم نہیں کرنا کیونکہ یہ گھبرائے ہوئے ہیں ، یہ ہر قسم کی کوشش کریں گے کسی نہ کسی طرح انتخاب اکتوبر تک چلا جائے ،
ساری قوم خاص طو رپر وکلاء تیاری کریں ،یہ 1999ء کی طرح سپریم کورٹ پر حملے اور تقسیم کی اب بھی کوشش کریں گے ،قوم کا کام سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہو قوم کو نکلنا پڑے گا، سپریم کورٹ کے پاس کوئی فوج نہیں ،عوام اس کی فوج ہے اس لئے عوام نے کھڑے ہونا ہے کیونکہ ہمارا مستقبل یہاں ہے کہ ملک میں حقیقی جمہوریت قانون کی حکمرانی ہو ۔



















































