ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

اوپیک پلس کی تیل پیداوارمیں کٹوتی کے بعدقیمتوں میں اضافہ

datetime 4  اپریل‬‮  2023 |

ریاض (این این آئی)سعودی عرب کی قیادت میں تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی جانب سے یومیہ دس لاکھ بیرل سے زیادہ تیل پیداوار میں رضاکارانہ کٹوتی کے اعلان کے بعد پیر کی صبح ایشیائی تجارت میں قیمتوں میں قریبا چھے فی صد اضافہ ہوا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے 5.74 فی صد اضافے سے 80.01 ڈالر فی بیرل جبکہ برینٹ کے 5.67 فی صد اضافے کے ساتھ 84.42 ڈالر فی بیرل میں ہوئے ہیں۔سعودی عرب،عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، الجزائر اورعمان کی جانب سے تیل کی پیداوار میں یومیہ کٹوتی کا اقدام اگلے ماہ سے سال کے آخر تک نافذالعمل رہے گا۔یہ گذشتہ سال اکتوبر میں اوپیک پلس کارٹیل کی جانب سے یومیہ 20 لاکھ بیرل کی کمی کے بعد پیداوار میں سب سے بڑی کٹوتی ہے۔اوپیک پلس میں شامل روس نے تیل کی یومیہ پیداوار میں پانچ لاکھ بیرل کی کٹوتی میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے اور امریکا کی جانب سے پیداوار میں اضافے کے کے باوجود یومیہ پیداوارمیں کمی کے اعلانات کیے گئے ہیں۔بعض معاشی ماہرین کے مطابق اس سے افراطِ زر کے بارے میں نئے خدشات پیداہوں گے اور مرکزی بینکوں پر شرح سود میں مزید اضافہ کرنے کے لیے مزید دبا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…