ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

موجودہ سیاسی صورتحال کے حل کیلئے مفتی تقی عثمانی نے سیاستدانوں اور اداروں کو کیا مشورہ دیا؟

datetime 2  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)ممتاز عالمِ دین مفتی تقی عثمانی نے ملک میں جاری سیاسی صورتِ حال پر کہا ہے کہ اگر کسی گھر کے لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں اور گھر میں آگ لگ جائے تو کیا اس وقت یہ بحث کی جائے گی کہ آگ کس نے لگائی یا واحد راستہ یہ ہو گا کہ

سب مل کر آگ بجھائیں؟سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے سلسلہ وار ٹوئٹس میں مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ موجودہ بحران کا حل صرف یہی ہے کہ تمام جماعتیں اور ادارے منافرت اور دشمنی کے بجائے سرجوڑ کر ملک کو بچائیں۔قرآنی آیت کا حوالے دیتے ہوئے مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ’تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرائو اور اللّٰہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام اور بااثر حضرات کا فرض ہے کہ وہ اس قرآنی حکم پر عمل کر کے رہنمائوں کو ساتھ بٹھانے کی بھرپور کوشش کریں۔مفتی تقی عثمانی نے کہاکہ فوج اور عدلیہ کو یقینا سیاست میں دخل نہیں دینا چاہیے تاہم ایسے سنگین حالات میں جماعتوں کو ساتھ بٹھا کر غیر جانبداری سے خالص ملک کے مفاد اور قومی سلامتی کے لیے مسئلے کاحل نکالنا ان کا فرض بنتا ہے، اللّٰہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…