بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

عوام کیلئے اچھی خبر ،دالوں کی قیمتوں میں بڑی کمی

datetime 10  فروری‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی)بندرگاہ پر پھنسے کنٹینرز ریلیز ہونے کے بعد ملک میں دالوں کی قیمت میں 25 روپے کی کلو تک کمی واقع ہوگئی ہے۔کراچی کی دونوں بندرگاہوں میں پھنسے ہزاروں کنٹینرز ریلیز ہونا شروع ہوگئے ہیں، حکومتی احکامات کی روشنی میں اشیائے خور و نوش اور عام ضروریات کی

چیزوں کو فوقیت دی جارہی ہے۔چند روز کے دوران بندرگاہوں پر موجود اجناس سے بھرے 2400 کنٹینرز ریلیز کردیئے گئے ہیں۔ جس کے اثرات ملک بھر کی ہول سیل مارکیٹوں پر پڑا ہے۔ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالرؤف ابراہیم نے بتایا کہ کنٹینرز پھنسنے کی وجہ سے ناجائز منافع خوری شروع ہوئی تاہم کنٹینرز ریلیز ہونے سے مارکیٹ میں سٹے باز بیوپاریوں کو بھاری مالی نقصان ہوا ہے۔ہول سیل مارکیٹ میں دالوں اور دیگر اجناس کی قلت ختم اور سپلائی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے مختلف دالوں کی قیمتیں 25 روپے فی کلو گرام تک کم ہوگئی ہیں۔ قیمتوں میں کمی کا اثر آئندہ چند روز میں ریٹیل کی دکانوں پر بھی پڑے گا۔عبدالرؤف ابراہیم نے کہا کہ کنٹینرز ریلیز ہونے کے بعد دالوں کی قیمتیں قیمت مزید کم ہونے کا امکان ہے۔ بندرگاہ پر پھنسے کنٹینرز ریلیز ہونے کے بعد ملک میں دالوں کی قیمت میں 25 روپے کی کلو تک کمی واقع ہوگئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…