بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

شیخ رشید کی حوالگی کیلئے کراچی کا ایس ایچ او صحافی بن کر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا

datetime 5  فروری‬‮  2023 |

اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید احمد کے راہداری ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کے دوران کراچی کے تھانہ موچکو کے ایس ایچ او عدالت میں صحافتی ادارے کے نمائندے کے طور پر داخل ہوئے اور پکڑے گئے۔شیخ رشید کے خلاف کراچی کے تھانہ موچکو میں درج

مقدمہ کے تفتیشی اور انسپکٹر راہداری ریمانڈ کی درخواست پر عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر تفتیشی افسر نے معزز جج کو بتایا کہ پولی کلینک میں شیخ رشید نے جو گفتگو کی تھی اس پر مقدمہ درج کیا گیا ہے، شیخ رشید کو کراچی منتقل کرنا ہے۔شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ پر درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیے اور ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا۔ جس پر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر میں جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ قابل ضمانت ہیں، دفعات کیونکہ قابل ضمانت ہیں عدالت سے استدعا ہے کی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی جائے، ضمانتی مچلکے متعلقہ عدالت میں بھیج دیے جائیں گے۔شیخ رشید کے وکلا نے راہداری ریمانڈ کی مخالفت کی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور پھر سندھ پولیس کی راہداری ریمانڈ کی درخواست کو مسترد کردیا۔اس موقع پر کمرہ عدالت میں ایک شخص موجود تھا جس نے اپنا تعارف معروف صحافتی ادارے کے نمائندے کے طور پر کروایا تاہم عدالت میں موجود صحافیوں نے انہیں روک کر سوال کیا۔جس پر انسپکٹر چوہدری شاہد نے اعتراف کیا کہ وہ موچکو تھانے کے ایس ایچ او ہیں اور راہداری ریمانڈ میں شیخ رشید کی حوالگی کے لیے یہاں موجود تھے، عدالت میں انہوں نے کچھ وجوہات کی وجہ سے خود کو نجی ٹی وی کا نمائندہ ظاہر کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…