کمیٹی فراڈ، خاتون 24 کروڑ لے کر فرار ہوگئی

  بدھ‬‮ 7 دسمبر‬‮ 2022  |  18:34

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی ) کروڑوں کی کمیٹی فراڈ کرنے کہ بعد خاتون فرار ہوگئی، گھر چھوڑ دیا اور نمبر بھی بند کردیا۔ خاتون نے سوشل میڈیا پر پیغام میں رقم کا تقاضہ کرنے والوں کو غنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غنڈہ عناصر ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں، حفاظت کے لیے گھر تبدیل کیا۔نجی ٹی وی ٹوئنٹی فور نیوز کے بینکنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ

کمیٹی جمع کرنے والی خاتون سدرہ حُمید کے نجی بینک اکاؤنٹ سے رقم نکال لی گئی ہے، کروڑوں روپے جمع کرنے والی خاتون کے بینک اکاؤنٹ میں صرف 24 ہزار روپے موجود ہیں۔ سدرہ کراچی میں مقیم کاروباری خاتون ہیں جو ماہانہ بیلٹ کمیٹی کا نظام چلاتی تھیں ، انہوں نے سوشل میڈیا پر انکشاف کیا کہ ان سےبدانتظامی ہوگئی جس وجہ سے وہ اپنے کمیٹی ممبران کو 24 کروڑ کی رقم نہیں ادا کر سکتیں مگر کمیٹی جاری رکھیں ۔ بزنس، کروز،اور ‘ڈیلی بائٹس، کی مالک سدرہ حمید نے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں دیدہ دلیری سے انکشاف کیاکے انہوں نے اپنے سیکڑوں کمیٹی ممبران کو دھوکہ دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ اب ان کے پاس کمیٹی کو ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔کمیٹی ممبران یہ خبر سن کر حیران و پریشان رہ گئے ہیں۔ پوسٹ میں خاتون کا کہنا تھا کہ وہ مانتی ہیں انسے غلطی ہوئی ہے کمیٹی جاری رکہیں ورنہ رقم نہیں لوٹا پاوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں کہیں بھاگوں گی نہیں ،کوشش کروں گی کہ کچھ سالوں میں رقم ادا کر سکوں۔ مگر اس پوسٹ کے بعدخاتون اپنا گھر چھوڑ گئیں اور فون بھی بند کر دیا۔دوسری جانب کراچی کی ایک کاروباری خاتون نے ماہانہ کمیٹی کے سلسلے میں سیکڑوں شہریوں باالخصوص خواتین سے 42 کروڑ روپے کا فراڈ کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر اثر انداز کراچی کی خاتون سیکڑوں شہریوں سے کمیٹی ڈالنے کے لیے ماہانہ رقم وصول کرتی تھیںجس کا کوئی تحریری ریکارڈ محفوظ نہیں کیا

اور یوں تمام لوگوں سے 42 کروڑ روپے کا فراڈ کر کے اسکیم ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ہوم بیسڈ فوڈ بزنس ڈیلی بائٹس اور ہینڈی کرافٹ اسٹارٹ اپ کروز کی مالک سدرہ حمید نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر یہ اعلان کر کے اپنے سیکڑوں ڈپازٹرز کو دھوکہ دیا کہ ان کے پاس 2 سو کے قریب اپنی کمیٹیوں کی ادائیگی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر ایسی خبریں گردش کر رہیں تھیں

جہاں متعدد لوگوں نے اسے پونزی اسکیم قرار دیا جبکہ متاثرین نے ایک دوسرے سے رابطہ کرکے خاتون کے خلاف کارروائی کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنا دیا تاہم متاثرین نے معاملہ خود حل کرنے کی کوشش میں پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)سے رابطہ نہیں کیا۔ادھر سدرہ حمید نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے متاثرین کو درخواست کی کہ بے چین مت ہوں

آپ کی رقم چند ماہ میں واپس کی جائے گی۔ایک متاثر شہری نے بتایا کہ خاتون نے 15 سے 20 کروڑ کا فراڈ کیا ہے۔ایک لاکھ 50 ہزار روپے کا نقصان کرنے والی ایک خاتون ثنا عدنان نے کہا کہ زیادہ تر لوگ سدرہ حمید کو گزشتہ سات سے 10 سالوں سے جانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں دو کمیٹیوں میں شامل ہوئی اور ایک کمیٹی میں 50 ہزار روپے ماہانہ ادا کر رہی تھی

جبکہ 20 ماہ کی کمیٹی میں 25 ہزار روپے ادا کر رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ روایتی طور پر ہر ماہ کمیٹی کے ایک رکن کو کل رقم ادا کی جاتی ہے تاہم ہمیں پتہ چلا کہ ہر ماہ کوئی نہ کوئیانجان ممبر یا اس کے خاندان کے کسی فرد کو کل رقم ادا کی جاتی تھی جبکہ ہم تمام اراکین ماہانہ کمیٹی میں کئی ماہ سے رقم دیتے آرہے تھے

اور پتہ چلا کہ ساری رقم دراصل خود سدرہ حمید کو جا رہی تھی۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اور متاثر شخص نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے سدرہ حمید سوشل میڈیا پر اپنی مہنگی اشیا بشمول گھڑیاں، موبائل فون کی تصاویر رکھتی تھیں اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہیہ رقم کہاں جا رہی تھی

کیونکہ ان کا خاوند ایک فری لانسر ہے اور سدرہ کھانے کی اشیا فروخت کرکے اتنی رقم نہیں بنا سکتی۔ایک اور شہری نے بتایا کہ ان کے 9 لاکھ 70 ہزار روپے چلے گئے ہیں کیونکہ جنوری میں کمیٹی کے بارے میں جاننے کے بعد وہ 5 لاکھ کی اسکیم کے لیے ماہانہ 50 ہزار کمیٹی میں رکھتے تھے۔

متاثرہ شہری نے بتایا کہ انہوں نے 8 لاکھ کی ایک کاروباری کمیٹی بھی رکھی تھیجس کیلئے وہ ماہانہ 80 ہزار کمیٹی میں جمع کرتا تھا لیکن رقم واپس نہیں ہوئی۔شہری نے کہا کہ جب انہوں نے سدرہ حمید کے والد سے بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم صرف وہ رقم ادا کریں گے

جو سدرہ کے اکانٹ میں منتقل کی گئی ہے مگر بات یہ ہے کہ رقم ایک ایسے شخص کے اکانٹ میں براہ راست منتقل کی گئی ہے جس نے سدرہ کے کہنے پر اس مخصوص مہینے میں کمیٹی میں حصہ لیا تھا تاہم موقف کیلئے سدرہ حمید سے رابطہ کیا گیامگر نہ تو انہوں نے فون پر بات کی اور نہ ہی میسج کا جواب دیا۔



زیرو پوائنٹ

بشریٰ بی بی سے شادی

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎

عون چودھری 2010ء سے 2018ء تک سائے کی طرح عمران خان کے ساتھ رہے‘ یہ رات کے وقت انہیں ملنے والے آخری اور صبح ملاقات کے لیے آنے والے پہلے شخص ہوتے تھے چناں چہ یہ عمران خان کی زندگی کے اہم ترین دور کے اہم ترین شاہد ہیں‘ مجھے چند دن قبل عون چودھری نے اپنے گھر پر ناشتے ....مزید پڑھئے‎