اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے ایندھن کی بچت اور سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے نافذ کیے گئے بعض اقدامات ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے،
جس کے بعد کابینہ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے سرکاری اداروں میں نافذ متعدد کفایت شعاری اقدامات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت جمعے کے روز چھٹی کا نظام ختم کر دیا گیا ہے جبکہ سرکاری افسران اور اداروں کو پیٹرول کی مکمل سہولت بھی دوبارہ فراہم کی جائے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فیصد کمی سے متعلق پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد متعلقہ محکمے دوبارہ اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔دوسری جانب کاروباری اوقات سے متعلق پہلے سے نافذ احکامات بدستور برقرار رہیں گے۔ دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے تک بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز اور تقریباتی مراکز کے لیے رات 10 بجے تک اوقات کار مقرر رہیں گے۔اسی طرح ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس کو رات 11 بجے بند کرنا ہوگا، تاہم ہوم ڈلیوری اور ٹیک اوے سروسز کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل رہے گا۔
حکومتی نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اسپتال، کلینکس، فارمیسیاں، لیبارٹریز، بیکریاں، تندور اور دودھ کی دکانیں مقررہ اوقات کی پابندی سے آزاد ہوں گی۔ اسی طرح پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، الیکٹرک وہیکل چارجنگ مراکز بھی معمول کے مطابق کام جاری رکھ سکیں گے۔علاوہ ازیں جم، اسپورٹس سینٹرز، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو بھی کاروباری اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ 9 مارچ 2026 سے قبل نافذ کیے گئے دیگر کفایت شعاری اقدامات بدستور نافذ العمل رہیں گے اور ان میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔



















































