ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

تین میں سے ایک بالغ پاکستانی ذیابیطس سے متاثر ،وجہ بھی سامنے آ گئی

datetime 18  جون‬‮  2026 |

مکو آ نہ (این این آئی)ماہر ذیابیطس ڈاکٹر بی ایم راٹھور نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر تیسرا بالغ فرد اس بیماری سے متاثر ہے،

20سے 79 سال کی عمر کے تقریباً 35 ملین پاکستانی ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شوگر کی عام علامات میں پیشاب کا بار بار آنا، بہت زیادہ پیاس لگنا، وزن میں اچانک کمی، مسلسل تھکاوٹ اور زخموں کا دیر سے صحیح ہونا وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان علامات کو نظر انداز کر دیا جائے تو حالت مزید خراب ہو سکتی ہے اور صحت کی سنگین پیچیدگیاں جیسے دل کی بیماری، گردوں کی خرابی اور بینائی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ذیابیطس کی مختلف اقسام کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر راٹھور نے کہا کہ بنیادی طور پر اس کی دو قسمی ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطسہیں۔ٹائپ 1 کی تشخیص عام طور پر بچپن میں ہوتی ہے اور یہ جسم کی انسولین پیدا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ہوتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ٹائپ 2جو زیادہ عام ہے اکثر بالغوں میں نشوونما پاتی ہے اور اس کا تعلق ناقص خوراک، جسمانی سرگرمی کی کمی اور موٹاپے سے ہے۔ذیابیطس کے علاج کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ذیابیطس کا مکمل علاج نہیں کیا جا سکتا لیکن اس بیماری دواؤں، باقاعدگی سے ورزش اور متوازن خوراک کے امتزاج سے مؤثر طریقے سے قابو کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے شوگر کی مقدار کو کم کرنے، فائبر سے بھرپور غذائیں کھانے اور خون میں شکر کی سطح کو باقاعدگی سے مانیٹر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ڈاکٹر بی ایم راٹھور نے بیماری سے بچنے کے لیے طرز زندگی میں تبدیلیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی،خاص طور پر ان لوگوں میں جن کی خاندانی تاریخ ذیابیطس سے منسلک ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق اس وقت 20 سے 79 سال کی عمر کے تقریباً 35 ملین پاکستانی ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…