اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) وزیراعظم شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MOU) پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہونے کے بعد معاہدہ عملی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث اس دورے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور اتفاقِ رائے پر مبنی فریم ورک تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جو کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر چکے ہیں جبکہ پاکستان نے ثالث کے طور پر مذاکراتی عمل میں معاونت فراہم کی۔ذرائع کے مطابق اب معاہدے کے نفاذ کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے اور آئندہ مرحلے میں تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی، بحری سلامتی، جوہری معاملات، تصدیقی نظام اور مرحلہ وار عملدرآمد جیسے امور زیر بحث آئیں گے۔سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان نے صرف میزبانی کا کردار ادا نہیں کیا بلکہ ایک جامع اور قابلِ عمل خاکہ مرتب کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس پر اب ماہرین مزید پیش رفت کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدہ باقاعدہ طور پر مؤثر ہو چکا ہے اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے پاکستان اپنا سفارتی کردار جاری رکھے گا۔ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات کے لیے چار الگ ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے جائیں گے۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں اور امریکا و ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
وزیراعظم کے مطابق اس دستاویز پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فریقین تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بطور ثالث پاکستان نے بھی اس معاہدے کی توثیق کی ہے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے پائیدار حل کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مذاکراتی ٹیم کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس معاہدے سے متعلق ایک خصوصی تقریب



















































