وزارت داخلہ نے اے آر وائی نیوز کااین او سی منسوخ کردیا

  جمعہ‬‮ 12 اگست‬‮ 2022  |  22:21

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )آزادی صحافت کی دعویدار حکومت نے 4 ہزار صحافیوں کا معاشی قتل کر ڈالا رانا ثنا اللہ کی وزارت داخلہ نے اے آر وائی نیوز کا این او سی منسوخ کردیا۔نجی ٹی وی اے آروائی کے مطابق آزادی صحافت کی دعویدار حکومت نے بیک جنبش قلم 4 ہزار سے زائد صحافیوں کا معاشی قتل کرتے ہوئے اے آر وائی نیوز کا این او سی منسوخ کردیا ہے

اور ہزاروں کارکنوں کا روزگار ختم کرکے انہیں گھر بھیج دیا ہے۔حکومت نے شوکاز دیے بغیر اے آر وائی نیوز کی این او سی کینسل کی ہے جس کے بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر شوکاز دیے این او سی کینسل نہیں کی جاسکتی۔صحافتی تنظیموں، قانونی ماہرین نے حکومت کے اس انتہائی اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔صدر پی ایف یو جے افضل بٹ کا کہنا ہے کہ آج کا دن پاکستان کی میڈیا کی تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائیگا۔ یہ وقت بھی گزر جائیگا لیکن سیاہ فیصلے ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔ اعتزاز احسن اور بابر اعوان نے حکومت کا فیصلہ توہین عدالت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت داخلہ کے اس اقدام سے چینل کو بند نہیں کیاجاسکتا۔صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی نے این او سی منسوخی کو ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں میڈیا ورکرز کے خاندانوں کا چولہا بند کیا جا رہا ہے۔ ملک بھرمیں صحافی اس اقدام کیخلاف بھرپور احتجاج کرینگے۔ماہر قانون صفدر شاہین نے کہا کہ اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے سے کسی کی آواز نہیں دبائی جا سکتی۔ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ رانا ثنا اللہ جیسے لوگوں کو فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔



زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎